ماضی میں بجلی پلانٹس کو ایک ہزار ارب روپے زائد کی ادائیگیاں

ماضی میں بجلی پلانٹس کو ایک ہزار ارب روپے زائد کی ادائیگیاں

کراچی: ایک چشم کشا رپورٹ وزیر اعظم کو مارچ کے آخری ہفتے میں پیش کی گئی تھی جس میں انکشاف ہوا کہ ماضی میں بجلی پلانٹس کو ایک ہزار ارب روپے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں، 1994 کی پالیسی کے تحت 16 آئی پی پیز نے 51.80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی، اور 415 ارب روپے سے زائد کا منافع کمایا

پیش کردہ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر آئی پی پیز نے 4 سال میں ہی سرمایہ واپس حاصل کیا، کمپنیوں نے اوسطاً 87 فی صد منافع حاصل کیا، یعنی 9 گنا منافع اور 7 گنا ڈیویڈنڈ لیا۔
2007 میں شوکت عزیز کے دور کی ای سی سی نے کوتاہی کر کے آئی پی پیز کو 16.48 ارب روپے کمانے کا موقع فراہم کیا، ان کمپنیوں نے سرمایہ کاری روپوں میں کی اور منافع ڈالروں میں وصول کیا۔
موجودہ حکومت نے شفاف انکوائری کی ایک اور مثال قائم کر دی ہے، اس رپورٹ میں کابینہ ارکان عبدالرزاق داؤد اور ندیم بابر کی کمپنیوں کا بھی تذکرہ کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عبدالرزاق داؤد کی کمپنی نے 30 ارب روپے کمائے، ندیم بابر کی کمپنی نے بھی اربوں کا منافع سمیٹا، دونوں کابینہ ارکان کی موجودگی میں وزیر اعظم عمران خان کو رپورٹ پیش کی گئی۔
وزیر اعظم کو مشورہ دیا گیا ہے کہ معاہدوں پر آئی پی پیز سے بات نہ کریں، عالمی کیسز بن سکتے ہیں، رپورٹ میں میاں منشا کی پاور کمپنیوں کا بھانڈا بھی پھوٹ گیا، نشاط اور چونیاں پاور نے 20 ارب سے زائد بٹورے۔

یہ بھی پڑھیں

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 100 ارب کی کرپشن بے نقاب ہوگئی

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 100 ارب کی کرپشن بے نقاب ہوگئی

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 100 ارب کی کرپشن بے نقاب ہوگئی، سندھ لوکل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے