میاں بیوی کے جنسی تعلقات، ترک مفتی کے فتوے نے ہنگامہ کھڑا کردیا، جان کر آپ بھی چونک اٹھیں گے

انقرہ: دنیا بھر میں مسلمانوں کو بدترین مسائل کا سامنا ہے لیکن ترکی کے دو علماء نے میاں بیوی کے جنسی تعلقات پر ایک دوسرے کے خلاف متنازعہ فتوے جاری کرکے ہلچل مچارکھی ہے۔ اخبار ’’حریت ڈیلی نیوز‘‘ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ایک عالم دین علی رضا دمیرکان نے فتویٰ جاری کیا کہ میاں بیوی کے درمیان منہ زبانی جنسی فعل (اورل جنسی فعل) حرام ہے، لیکن اب اس کے جواب میں ایک اور عالم دین احمد محمود انلو نے فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی احکامات میں کہیں بھی اس جنسی عمل کی ممانعت نہیں کی گئی لہٰذا اسے حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نیوز ویب سائٹ ”العربیہ،، کے مطابق  ان کا کہنا ہے کہ ایک اہم فقہی مکتبہ فکر انسانی نطفے کو پاک قرار دیتا ہے جبکہ ایک دوسرا بڑا مکتبہ فکر اسے ناپاک قرار دیتا ہے، لیکن یہ وضاحت بھی کرتا ہے کہ اسے خشک ہوجانے پر کھرچ دینے سے لباس صاف ہوجاتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈونیشیا اور ملائیشیا کے ایک مکتبہ فکر کے علماء منہ زبانی جنسی فعل (اورل جنسی فعل) کو جائز قرار دیتے ہیں۔احمد محمود کے دلائل کے مطابق کوئی بھی فقہی مکتبہ فکر اس جنسی عمل کو حرام قرار نہیں دیتا، البتہ بعض علماء اسے غیر مناسب قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے علی رضا دمیرکان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فتوے کے ماخذ بیان کریں۔ترکی میں دونوں علماء کے ماننے والے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں اور ان کے متضاد بیانات کے بعد شادی شدہ جوڑے اس ابہام کا شکار ہو گئے ہیں کہ وہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

واشنگٹن: فوجی بھیجنے کا فیصلہ امریکی قومی سلامتی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے