جو رقم عالمی ادارہ صت کو جاتی تھی اس کا کس طرح استعمال کیا جائے گا

جو رقم عالمی ادارہ صت کو جاتی تھی اس کا کس طرح استعمال کیا جائے گا

امریکا: امریکی صدر نے کہا کہ اگر عالمی ادارہ صحت نے طبی ماہرین کو بھیج کر صورتحال کا جائزہ لینے کا اپنا فرض انجام دیا ہوتا اور وائرس کے حوالے سے چین کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہوتے تو اس وائرس کو پھیلاؤ سے روک کر کئی ہزاروں افراد کو مرنے اور عالمی معیشت کو تباہی سے بچایا جا سکتا تھا

جان ہوپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال چین سے جنم لینے والے وائرس سے دنیا بھر میں 20لاکھ سے زائد افراد متاثر اور ایک لاکھ 24ہزار متاثر ہو چکے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ یہ ڈبلیو ایچ او کےوسائل میں کمی کا مناسب وقت نہیں، وائرس کا پھیلاؤ اور اس کے خطرناک نتائج کو روکنے کیلئے یہ اتحاد اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر یکجہتی سے کام کرنے کا وقت ہے۔
اقوام متحدہ دنیا بھر میں عالمی ادارہ صحت کا سب سے بڑا ڈونر ہے جس نے 2019 میں 400ملین ڈالر سے زائد کی رقم عطیہ کی تھی جو مجموعی بجٹ کا 15فیصد بنتی ہے۔
آسٹریلین وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے امریکی صدر سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تنقید کو کسی حد تک جائز قرار دیا اور کہا کہ عالمی اداری صحت نے چین کو مکمل سپورٹ کرتے ہوئے ‘ویٹ مارکیٹس’ کھولنے کی اجازت دی جہاں ذبح کیے جانے والے جانور فروخت کیے جاتے ہیں اور جہاں گزشتہ سال ووہان میں پہلا کیس سامنے آیا تھا۔
لیکن انہوں نے کہا عالمی ادارہ صحت نے خصوصی طور پر پیسیفک خطے میں بہت کام کیا ہے اور ہم ان سے مکمل رابطے میں ہیں۔
امریکا میں صرف منگل کو 2ہزار 200افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد امریکی معیشت اور دیگر سرگرمیوں کو فوری طوعر پر کھولنے یا نہ کھولنے کے حوالے بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکا میں نیویارک شہر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں اب تک کم از کم 10ہزار افراد مر چکے ہیں۔
امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن نے ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے غلط سمت میں خطرناک قدم قرار دیا ہے۔
امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر پیٹریس ہیرس نے کہا کہ ٹرمپ کے اس فیصلے سے کووڈ-19 کو شکست دینے میں کوئی مدد نہیں ملے گی اور انہیں اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے۔
جان ہوپکنز یونیورسٹی کے سینٹر فار ہیلتھ کے ماہر ڈاکٹر امیش ایڈلجا نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے اس وبا کے درمیان میں غلط پیغام جائے گا۔
عالمی ادارہ صحت سے غلطی ہوئی جیسا کہ 2013 اور 2014 میں ایبولا کی وبا پھیلنے کے وقت ان سے غلطی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

نائب افغان صدر کے قافلے پر بم حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک

نائب افغان صدر کے قافلے پر بم حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک

کابل: آج صبح افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سڑک کنارے بم دھماکے کے نتیجے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے