آئی جی سندھ اور ایس ایچ اوز جنسی ہراساں کر رہے ہیں، خاتون اے ایس آئی افسران کی درندگی کیخلاف سڑکوں پر نکل آئی

کراچی: سندھ پولیس کی خاتون اے ایس آئی جنسی طور پر ہراساں کئے جانے پر اپنے افسران کے خلاف سراپا احتجاج بن گئی۔ تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس میں بطور اے ایس آئی خدمات سرانجام دینے والی روبینہ شاہین نامی خاتون اپنے سینئر افسران کی جانب سے جنسی ہراسگی کیخلاف احتجاج کیلئے نکل آئی، جس نے اپنے بیٹے کے ہمراہ کراچی پریس کلب کے سامنے دھرنا دیدیا۔ سینئر افسران کے خلاف آواز بلند کرنے پر اغواء کئے جانے کے خوف میں مبتلا اس خاتون افسر کا کہنا تھا کہ میں اس وقت سندھ اسمبلی میں تعینات ہوں مگر افسران کی درندگی کو سامنے لانے پر پتہ نہیں محکمہ اور آئی جی سندھ میرے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ روبینہ شاہین نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ اسے 2002ء میں تعیناتی سے اب تک جنسی ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ اس وقت حیدرآباد کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اے ڈی خواجہ نے بھی ہراساں کیا اور ملازمت سے نکال دیا اور پھر 2003ء میں دوبارہ بحال کیا گیا مگر افسران کے رویئے نے میری زندگی کو تباہ کر دیا۔
 
شاہین نے مزید کہا کہ جنسی ہراسگی سے متعلق اس نے سندھ ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کر رکھی ہے اور اگر میری جان کو کوئی خطرہ ہوا یا مجھے اغواء کیا گیا تو آئی جی اور برگیڈ تھانے کے ایس ایچ او جبکہ جنوبی اور مشرقی اضلاع کے ایس ایچ اوز اس کے ذمہ دار ہونگے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے معاملے کی تحقیقات کرانے اور سیکیورٹی فراہم کرنے کی اپیل بھی کی۔ آئی جی سندھ کے ترجمان نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی جی ایک ایماندار افسر ہیں تاہم خاتون اپنے مذموم مقاصد کیلئے ان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہے، خاتون کو جنسی ہراساں کرنے یا اغواء کرنے کے حوالے سے کسی پر دباو نہیں ڈالا جا رہا۔

یہ بھی پڑھیں

آسمانی بجلی گرنے سے 6 خواتین سمیت 22 افراد جاں بحق

آسمانی بجلی گرنے سے 6 خواتین سمیت 22 افراد جاں بحق

مٹھی: صحرائے تھر کی مختلف تحصیلوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ وقفے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے