جنگجوؤں اور افغان حکومت کے مابین ابتدائی قیدیوں کے تبادلے

جنگجوؤں اور افغان حکومت کے مابین ابتدائی قیدیوں کے تبادلے

کابل: افغانستان میں مفاہمت کے لیےامریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے ٹوئٹ میں کہا کہ قیدیوں کی رہائی امن عمل اور تشدد کے خاتمے کے لیے ایک اہم قدم ہے

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے مطابق طالبان نے سیکیورٹی فورس کے 20 قیدیوں کو رہا کیا
یہ اقدام گزشتہ ہفتے حکومت کے سیکڑوں جنگجوؤں کو رہا کرنے کے بعد کیا گیا
فریقین کو جلد از جلد امریکی طالبان معاہدے میں طے شدہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کوششوں کو تیز کرنا چاہیے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق زلمے خلیل زاد اس معاہدے کے ’چیلنجوں‘ پر قابو پانے کے لیے طالبان کے نمائندوں کے ساتھ تازہ ملاقاتوں کے لیے قطر روانہ ہوئے تھے۔
خلیل زاد اور طالبان نے 29 فروری کو ہونے والے معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت امریکیوں اور دیگر غیر ملکی افواج کو طالبان جنگجوؤں کے مختلف وعدوں کے بدلے میں افغانستان چھوڑنے کی راہ ہموار ہوگی۔
اس معاہدے میں کہا گیا تھا کہ افغان حکومت 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرے گی جبکہ طالبان ایک ہزار افغان سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں کو آزاد کریں گے۔
اگرچہ یہ تبادلہ 10 مارچ تک ہوا تھا جس کے نتیجے میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین امن مذاکرات کا آغاز ہوگیا تھا لیکن یہ عمل مسائل سے دوچار ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

امریکا: اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب ریاست جارجیا کی ارون کاؤنٹی کے ایک حراستی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے