تیسری عالمی جنگ کا خطرہ انتہائی سنگین ہوگیا، روس نے اپنا سب سے خطرناک ایٹمی ہتھیار امریکہ کے خلاف میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرلیا

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے پر توقع کی جا رہی تھی کہ امریکہ اور روس کے درمیان تلخی کچھ کم ہو گی لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے روس کے ہمسایہ یورپی ممالک میں میزائل سسٹم نصب کرنے کے فیصلے کے جواب میں اب روس نے اپنا سب سے خطرناک ایٹمی ہتھیار اس کے خلاف میدان میں اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے دنیا پر تیسری عالمی جنگ مسلط ہونے کا سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ خطرناک ہتھیار ایٹمی آبدوزوں کی کھیپ ہے جنہیں اب روس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں سے لیس کرنا شروع کر دیا ہے۔ آبدوزوں کے اس بیڑے کا نام سیزلرز(Sizzlers)ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق یہ آبدوزیں پانی میں 600میٹر تک کی گہرائی میں غوطہ لگا سکتی ہیں اور 350کلومیٹر دور فضاءمیں موجود ٹارگٹ کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ زمین پر موجود ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کے لیے یہ 2500کلومیٹر تک مار کر سکتی ہیں۔روسی نائب وزیردفاع یوری بوریسوف کا کہنا ہے کہ ”ہم اپنا یہ ہتھیار اپنے دفاع کے طور پر استعمال کریں گے۔ اس سے حملہ کرنے میں پہل نہیں کی جائے گی۔“بوریسوف کا مزید کہنا تھا کہ ”ان ایٹمی آبدوزوں کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے اور ان میں نئے نیوی گیشن سسٹمز اور جدید لائف سپورٹ نصب کی جا رہی ہے۔“ رپورٹ کے مطابق ان آبدوزوں کی اپ گریڈیشن کے بعد یہ روسی فوج کا سب سے بڑا اور مہلک ہتھیار بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

ہلسنکی میں یورپی ملکوں کے وزرائے خزانہ کا اجلاس

ہلسنکی میں یورپی ملکوں کے وزرائے خزانہ کا اجلاس

یورپی یونین کے وزرائےخزانہ نے یونین کے مالی قوانین کو آسان بنانے کی راہوں کاجائزہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے