گلشن اقبال، صدر اور نارتھ ناظم آباد میں کووڈ 19 کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ

گلشن اقبال، صدر اور نارتھ ناظم آباد میں کووڈ 19 کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ

کراچی: یہ تجزیہ ڈائریکٹریٹ جنرل ہیلتھ سروسز سندھ کے تحت کام کرنے والے صوبائی اور علاقائی بیماریوں کی نگرانی اور ردعمل کے یونٹس کی تیار کردہ ایک رپورٹ کا حصہ تھا

رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کی جانب سے کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کے بارے میں اطلاع موصول ہوتے ہی کووڈ 19 پر نگرانی شروع کردی گئی تھی۔
یہ رپورٹ 26 فروری سے 9 اپریل تک سندھ کے مختلف ہسپتالوں اور لیبارٹریز سے اکٹھے کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جس کے مطابق کورونا کے ایک ہزار 60 کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے 20 ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
اضلاع کے حوالے سے دیکھا جائے تو کووڈ 19 کے سب سے زیادہ 272 کیسز سکھر میں رپورٹ ہوئے، جس کے بعد کراچی شرقی میں 178، حیدرآباد میں 147، کراچی وسطی میں 141، کراچی جنوبی میں 111، کراچی غربی میں 50، ملیر میں 48 اور لاڑکانہ میں 13 کیسز کی تصدیق ہوئی۔
ڈویژن کے حساب سے کراچی ڈویژن میں مجموعی طور پر 604 کیسز رپورٹ ہوئے، جس کے بعد سکھر میں 275، حیدرآباد میں 153 اور شہید بینظیر آباد اور لاڑکانہ میں 14، 14 کیسز رپورٹ ہوئے۔
کراچی کے علاقوں پر نظر ڈالیں تو کورونا کے سب سے زیادہ 127 کیسز گلشن اقبال میں رپورٹ ہوئے، اس کے بعد صدر میں 109 کیسز ہیں جن میں ڈی ایچ اے اور کلفٹن کے علاقے بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ نارتھ ناظم آباد میں 65، ملیر میں 41، جمشید ٹاؤن میں 42، نارتھ کراچی میں 30، اورنگی ٹاؤن میں 28، گلبرگ میں 22، لیاری میں 15، لیاقت آباد میں 14، شاہ فیصل میں 9، کیماڑی میں 8 اور کورنگی میں 4 کیسز کی تصدیق ہوئی۔
لانڈھی اور سائٹ کے علاقوں میں 7 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ بلدیہ اور گڈاپ ٹاؤن میں 2، دو کیسز رپورٹ ہوئے۔
اعداد و شمار کے اندازے سے معلوم ہوا کہ رپورٹ ہونے والے 21 فیصد کیسز میں لوگوں کی عمر 20 سے 29 سال تھی جبکہ 19 فیصد میں عمر 30 سے 39سال تھی مزید یہ کہ 70 اور اس سے زیادہ کی عمر کے افراد اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جبکہ ان کے بعد 60 سے 69 سال کی عمر کے افراد میں کیسز بڑی تعداد میں رپورٹ ہوئے۔
وقت کے حساب سے دیکھا جائے تو 21 فیصد افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق 16 مارچ کو ہوئی جبکہ 15 فیصد کے کیسز 30 مارچ کو رپورٹ ہوئے، یہ اعداد و شمار سکھر میں ٹھہرائے گئے زائرین اور حیدرآباد میں تبلیغی جماعت کے ممبران کے بارے میں کیسز کی عکاسی کرتا ہے،
جنس کے حساب سے بات کی جائے تو 70 فیصد مریض مرد تھے جبکہ 30 فیصد خواتین میں کورونا کی تصدیق ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق 54 فیصد افراد جن میں کورونا کی تشخیص ہوئی وہ باہر سے سفر کرکے پاکستان آئے تھے جبکہ باقی کیسز مقامی سطح پر منتقلی کے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

کراچی: وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے