جب تک لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوجاتا قسط کی ادائیگی موخر کی جائے
Law concept background

جب تک لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوجاتا قسط کی ادائیگی موخر کی جائے

اسلام آباد: چھوٹے قرضوں کی ادائیگی میں قرض داروں کو درپیش مشکلات سے متعلق مقدمے میں آئی ایچ سی کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی حکومت، وزارت خزانہ

شہری رفیق الرحمٰن نے درخواست جمع کرائی کہ وہ موجودہ حالات میں مائیکرو فنانس آر ایس پی این سے حاصل کردہ قرض کی قسط 75 ہزار ادا کرنے سے قاصر ہے
درخواست میں لکھا تھا کہ جب تک لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوجاتا قسط کی ادائیگی موخر کی جائے۔
رفیق الرحمٰن نے کہا کہ مجھ جیسے سیکڑوں افراد نے آر ایس پی این، غیرسرکاری اداروں اوربینک سے چھوٹے قرض لیے لیکن موجوہ حالات میں قسط کی ادائیگی نہ ممکن ہے اور مذکورہ اداروں کے نمائندے انہیں ہراساں کررہے ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ انہوں نے متعلقہ اداروں میں درخواستیں جمع کرائی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’لاک ڈاؤن سے تمام کاروباری سرگرمیاں معطل کردی ہیں جس کے نیتجے میں ایسی ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی جہاں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ رورل سپورٹ پروگرامز نیٹ ورک جیسے مائیکرو فنانس اداروں سے قرض حاصل کرنے والوں کو تحفظ فراہم کریں۔
آئی ایچ سی کے چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ پٹیشن میں جوسوال اٹھائے گئے وہ صرف درخواست گزار کے بنیادی حقوق ہی نہیں بلکہ عام عوام کے بھی ہیں۔
عدالت نے آر ایس پی این کو درخواست گزار کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔
عدالت نے اسٹیٹ بینک اور وزارت فنانس سے جواب طلب کرلیا کہ کس طرح مائیکرو فنانس سے عام شہریوں کو پریشانی دور کی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں

عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں

اسلام آباد: چار سال سے لاپتہ آئی ٹی انجئنیر ساجد محمود کی بازیابی کے لیے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے