کورونا وائرس کے متاثرہ افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ

کورونا وائرس کے متاثرہ افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ

 اسلام آباد: ملک میں اس وائرس کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں تاہم اس کے باوجود دنیا بھر کی طرح یہاں بھی اس کا پھیلاؤ جاری ہے

26 فروری کو پاکستان میں پہلے کیس سے لیکر آج 45 دن گزرنے تک کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا تاہم اپریل کے مہینے میں یہ اضافہ دوگنا تیز دیکھنے بھی آرہا ہے۔
31 مارچ تک ملک میں کیسز کی تعداد 2007 تک تھی جو آج (10 اپریل) تک بڑھ کر 4601 تک پہنچ گئی ہے۔
آج رپورٹ ہونے والے نئے کیسز پر نظر ڈالیں تو اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے متاثرین سامنے آئے۔

اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 5 نئے متاثرین کی تصدیق کی گئی۔
سرکاری اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی تعداد 102 سے بڑھ کر 107 تک پہنچ چکی ہے۔

گلگت بلتستان
وہی گلگت بلتستان میں بھی 2 نئے کیسز رپورٹ کیے گئے۔
ان نئے کیسز کے ساتھ ہی گلگت بلتستان میں متاثرین کی تعداد 213 سے بڑھ کر 215 ہوگئی۔

صحتیاب

تاہم جہاں متاثرین اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہورہا وہی صحتیاب افراد کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
گزشتہ روز تک ملک میں صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 572 تھی تاہم آج نئے اعداد و شمار کے مطابق اب تک پاکستان میں 727 افراد اس وائرس کو شکست دے چکے ہیں۔
ان نئے کیسز کے بعد اگر ملک میں صوبوں اور علاقوں کے حساب سے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو پنجاب میں اب تک سب سے زیادہ 2279 کیسز ہیں۔

اس کے بعد سندھ میں متاثرین کی تعداد 1128 تک پہنچ چکی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں 620 افراد وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔
بلوچستان میں 219 اور گلگت بلتستان میں 215 افراد وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

اسلام آباد میں یہ تعداد 107 ہے جبکہ آزادکشمیر میں سب سے کم 33 افراد کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

دریں اثنا ملک میں ہونے والی 67 اموات پر نظر ڈالیں تو اس وقت سب سے زیادہ خیبرپختونخوا اس حوالے سے آگے دکھائی دیتا ہے۔

خیبرپختونخوا: 22 اموات
سندھ: 21 اموات
پنجاب: 18 اموات
گلگت: بلتستان 3 اموات
بلوچستان: 2 اموات
اسلام آباد: 1 موت
آزاد کشمیر: کوئی نہیں

یہ بھی پڑھیں

عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں

عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں

اسلام آباد: چار سال سے لاپتہ آئی ٹی انجئنیر ساجد محمود کی بازیابی کے لیے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے