بجلی کے بلوں میں ماہانہ اورسہ ماہی بنیادوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ جون تک موخر

بجلی کے بلوں میں ماہانہ اورسہ ماہی بنیادوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ جون تک موخر

اسلام آباد: فیول ایڈجسٹمنٹ جون تک موخر کردی، قومی خزانے پر151ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا اقتصادی رابطہ کمیٹی نے منظوری دے دی جبکہ ای سی سی نے 4 سپلیمنٹری گرانٹس بھی منظور کرلی ہیں

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے ، ای سی سی نے اجلاس میں نجی بینکوں سے 100 ارب روپے قرض لینے کی بھی منظوری دی ہے تاکہ آئندہ چھ ماہ تک بجلی کے نرخ نہ بڑھانے کی صورت میں حکومتی نقصانات کا ازالہ کیا جاسکے اور تیل درآمدکنندگان کو زرمبادلہ کی شرح میں تبدیلی کا ازالہ کیا جاسکے۔
ای سی سی اجلاس میں پاکستان اسٹیٹ آئل کو بیل آئوٹ پیکیج دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اسے ڈیفالٹ ہونے سے بچایا جاسکے کیونکہ اس وقت پی ایس او کو 257 ارب روپے مختلف اداروں اور محکموں سے وصول کرنے ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت نے روں ماہ کے دوران مجموعی طور پر تین سو ارب روپے مختلف بینکوں اور کارپوریٹ سیکٹر سے حاصل کرنے ہیں اور اس دوران حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس رقم سے گردشی قرضوں میں کچھ حصہ ادا کردیا جائے
ای سی سی اس سلسلے میں پہلے ہی منظوری دے چکی ہے
ای سی سی کے کورونا ریلیف پیکیج سے300 یونٹ والے صارفین کو 22 ارب روپے تک کا ریلیف ملے گا، 4 سپلیمنٹری گرانٹس میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی )کیلئے 16 کروڑ روپے، پائیدار ترقی پروگرام کیلیے ایک ارب 70 کروڑ، سپیشل سکیورٹی ڈویڑن جنوبی فیزون کیلیے 11ارب 48 کروڑ روپے اور سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کیلیے 46 کروڑ 42 لاکھ روپے کی گرانٹ منظورکی گئی جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت گیس کی قیمتوں کے تعین کیلئے کمیٹی بھی قائم کردی ۔

یہ بھی پڑھیں

نیپرا بجلی کے نرخوں میں ایک روپے 62 پیسے اضافے کی منظوری

نیپرا بجلی کے نرخوں میں ایک روپے 62 پیسے اضافے کی منظوری

اسلام آباد: نیپرا کے ایک ترجمان نے کہا کہ ریگولیٹر کے نئے نرخ وفاقی حکومت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے