کاروبار کی مکمل تفصیلات نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے 17 اپریل کو پیش کریں

کاروبار کی مکمل تفصیلات نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے 17 اپریل کو پیش کریں

لاہور: شہباز شریف کو بھیجے گئے سوالنامے میں نیب لاہور نے کہا کہ سوالنامے کے ساتھ انہیں متعدد کال اپ نوٹس بھی جاری کیے لیکن ان کے جوابات ’غیر اطمینان بخش، نامکمل اور مضحکہ خیز‘ تھے

غیر ملکی اثاثوں کی بھی مکمل تفصیل فراہم کی جائے۔
بیورو نے شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کو قصور میں تحفے میں ملنے والی اراضی کی تفصیلات تفصیلات طلب کرلی۔
نیب نے شہباز شریف سے ان کے خاندان کے دیگر ممبروں کوملنے یا دینے والے تحائف کی بھی تفصیلات طلب کیں۔
نیب نے شہباز شریف سے زرعی آمدنی کی تفصیلات پیش کرنے کو بھی کہا ہے۔
نیب نے شہباز شریف سے منی لانڈرنگ کیس میں 2 ملزمان علی احمد خان اور نثار احمد گل کے ساتھ ’تعلقات کی نوعیت‘ کی بھی وضاحت طلب کرلی۔
نیب نے 2008 اور 2019 کے دوران ٹیکس ادا کیے جانے سے متعلق ساری تفصیلات طلب کرلیں۔
اس کے علاوہ شہباز شریف سے کہا گیا کہ وہ اپنی کاروباری آمدنی کی مکمل تفصیلات فراہم کریں جیسا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سامنے دعوی کیا گیا اور اس مدت کے دوران ہونے والی سرمایہ کاری اور اس کے حجم اور اخراجات کی تفصیلات جب ان کی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ کو وزیر اعلی ہاؤس قرار دیا گیا۔
نیب نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سے ’ان کے کنبہ کے ممبروں کے ذاتی بینک کھاتوں میں بڑے پیمانے پر نقد رقم جمع کرنے کے وسائل اور ان کے نام پر رکھے ہوئے کاروبار میں ’نامعلوم نقد رقم جمع‘ کے بارے میں دریافت کیا۔
شہباز شریف سے مکان نمبر 41-S، ڈی ایچ اے لاہور، اور کرایہ کی مدت کے کرایے کے معاہدے کی تفصیلات کے ساتھ کرایہ میں ادا کی جانے والی رقم بھی طلب کرلی۔
سابق وزیراعلیٰ سے وضاحت طلب کی گئی کہ 1998-2018 کے دوران ان کے اور اس کے کنبہ کے افراد کے اثاثے 2 کروڑ 37 لاکھ روپے سے بڑھ کر 3 ارب 50 کروڑ تک کیسے پہنچ گئے؟

یہ بھی پڑھیں

نیب احتساب کا نہیں،پولیٹیکل انجینئرنگ کا ادارہ ہے

نیب احتساب کا نہیں،پولیٹیکل انجینئرنگ کا ادارہ ہے

لاہور: رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ نیب احتساب کا نہیں،پولیٹیکل انجینئرنگ کا ادارہ ہے،چیئرمین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے