لوگ کرونا وبا سے مر رہے ہیں مگر کے الیکٹرک شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہے

لوگ کرونا وبا سے مر رہے ہیں مگر کے الیکٹرک شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہے

کراچی: حافظ نعیم الرحمٰن نے کے الیکٹرک کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2 دن میں بلوں کا مسئلہ حل نہ ہوا تو حالات کے ذمہ دار خود ہوں گے

لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہر طبقہ پریشان ہے، صنعتوں میں لوگوں کو ملازمتوں سے نکالا جا رہا ہے، ان حالات میں جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا تھا کہ کرونا ایمرجنسی کی وجہ سے 2 ماہ کے بل معاف کیے جائیں، وزیر اعلیٰ سے بات ہوئی تھی انھوں نے کہا تھا کے الیکٹرک سے بات ہو گئی ہے، بل قسطوں میں لیا جائے گا، لیکن انتہائی افسوس ہے کہ ان حالات میں بھی کے الیکٹرک شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہے۔
ہیٹ ویو کے دوران کے الیکٹرک کی نا اہلی کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئی تھیں، اگر اس کی تحقیقات میں کے الیکٹرک کو پکڑ لیا جاتا تو آج یہ نوبت نہ آتی، کرونا ایمرجنسی کے دوران بل معاف کرنے کی بجائے ڈبل کر دیے گئے، ایوریج بل لگا لگا کر بھیجے جا رہے ہیں، آفسز بند ہیں، مارکیٹس بند ہیں مگر ان کے بھی ایوریج بل ڈبل کر کے بھیج دیے گئے ہیں۔
لوگ بل ٹھیک کروانے جاتے ہیں تو ان کے دفاتر بند ملتے ہیں، گارڈز پولیس بلانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ حافظ نعیم نے سوال اٹھایا کہ بل بھیجنے کے لیے تو پورا نظام موجود ہے مگر میٹر ریڈنگ کے لیے کوئی نظام نہیں ہے؟ ہم نے کے الیکٹرک کے مظالم کے خلاف تحریک چلائی، وفاق سے مطالبہ ہے کہ کے الیکٹرک کو لگام دے، سندھ حکومت بھی ادارے کو ڈبل بل لینے سے روکے۔
حکومت اور کے الیکٹرک کے پاس 2 دن کا وقت ہے، اس کے بعد جماعت اسلامی ایک سے 2 دن میں اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی،

یہ بھی پڑھیں

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

کراچی: وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے