مس انگلینڈ کو سابق ہسپتال انتظامیہ نے واپس کام پر آنے کے لیے گرین سگنل دیا

مس انگلینڈ کو سابق ہسپتال انتظامیہ نے واپس کام پر آنے کے لیے گرین سگنل

برطانیہ: بھاشا مکھرجی نے دسمبر 2019 میں مس انگلینڈ کا مقابلہ حسن جیتا تھا، اس سے قبل وہ انگلینڈ کے ایک ہسپتال میں جونیئر ڈاکٹر کی خدمات سر انجام دے رہی تھیں

ڈاکٹری کی ملازمت چھوڑ کر مقابلہ حسن میں حصہ لینے والی بھارتی نژاد برطانوی دوشیزہ نے دسمبر 2019 میں مس انگلینڈ کا اعزاز حاصل کیا، جس کے بعد انہیں متعدد ممالک سے چیئرٹی پروگرامات میں مدعو کیا گیا تھا۔
بھاشا مکھرجی کو افریقہ سمیت جنوبی ایشیائی ممالک نے مقابلہ حسن جیتنے کے بعد متعدد فلاحی پروگراموں کے لیے خصوصی سفیر مقرر کرتے ہوئے انہیں اپنے ممالک میں امدادی پروگراموں کے لیے مدعو کیا تھا۔
بھاشا مکھرجی کو رواں برس اگست 2020 تک جنوبی ایشیائی ممالک میں متعدد فلاحی پروگراموں میں شرکت کرنی تھی اور وہ اسی وجہ سے کورونا وائرس کے حالیہ دنوں میں بھارتی شہر کولکتا میں موجود تھیں۔
بھاشا مکھرجی کو بھارت کی متعدد فلاحی تنظیموں سمیت پاکستانی فلاحی تنظیموں نے بھی امدادی پروگراموں کے لیے دعوت دے رکھی تھی اور مس انگلینڈ کو بھارت کے بعد پاکستان بھی جانا تھا۔
برطانیہ میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد بھاشا مکھرجی نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور انہوں نے فلاحی کاموں سے زیادہ واپس ملک جا کر کورونا کے مریضوں کے علاج کو اہمیت دی۔
بھاشا مکھرجی نے بتایا کہ انہوں نے 24 مارچ کو اپنے سابق ساتھی ڈاکٹرز سے رابطہ کیا اور وہاں کی صورتحال سے متعلق معلومات حاصل کی اور انہیں بتایا گیا کہ وہ انتہائی دباؤ اور مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں۔
ساتھی ڈاکٹرز سے بات کرنے کے بعد اپنے پرانے ہسپتال کی انتظامیہ سے بات کی اور انہیں بتایا کہ وہ واپس آکر بطور ڈاکٹر خدمات سر انجام دینا چاہتی ہیں، کیوں کہ بطور ایک ڈاکٹر ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنے ملک کے لوگوں کی خدمت کریں۔
مس انگلینڈ کو سابق ہسپتال انتظامیہ نے واپس کام پر آنے کے لیے گرین سگنل دیا، جس کے بعد وہ برطانوی ہائی کمیشن کی مدد سے براستہ جرمنی لندن پہنچیں اور اس وقت وہ 2 ہفتوں کا قرنطینہ کا مدہ پورا کر رہی ہیں اور جلد ہی وہ بطور ڈاکٹر انگلینڈ کے ایک ہسپتال میں خدمات سر انجام دیں گی۔
ھاشا مکھرجی نے سانس کی بیماریوں سے متعلق خصوصی کورس بھی کر رکھا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ان کے کام پر آنے سے علاقے کی صورتحال بہتر ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

14 سالہ نابینا برٹش پاکستانی گلوکارہ سیرین جہانگیر کی کانوں میں رس گھولتی آواز

14 سالہ نابینا برٹش پاکستانی گلوکارہ سیرین جہانگیر کی کانوں میں رس گھولتی آواز

کمسن برٹش پاکستانی نابینا گلوکارہ سیرین جہانگیر نے گزشتہ روز موسیقی کے اس بڑے مقابلے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے