’15 مارچ کو اگر لاک ڈاؤن ہو جاتا تو پورے ملک پر فرق پڑنا تھا

’15 مارچ کو اگر لاک ڈاؤن ہو جاتا تو پورے ملک پر فرق پڑنا تھا

کراچی: میں جلد لاک ڈاؤن کرنا چاہا رہا تھا لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اگر بیرون ملک اور دیگر صوبوں سے لوگ آ رہے ہوتے یہ وائرس یا ہم لوگ کسی جزیرے میں نہیں رہتے ہم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اگر پورے ملک میں یکساں پالیسی ہوتی تو زیادہ اثر ہوتا

’اگر آپ نے سوچنے میں یا عملدرآمد میں دیر کردی کہ میں پرفیکٹ حل دیکھوں اس سے نقصان زیادہ ہو گا بہ نسبت اس کے کہ آپ نے جلدی کام کیا اور سو فیصلے لیے اس میں سے پچاس غلط تھے اس سے آپ کو کم نقصان ہو گا۔‘
وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں کیا اس وقت ایک ہی صفحے پر ہیں؟ اس سوال کے جواب میں سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں ایک قومی سطح کی ٹاسک فورس بنی ہوئی ہے اور تمام صوبے اس کے رکن ہیں۔ ایک ہی پالیسی ہے باقی عملدرآمد میں کہیں کہیں تھوڑا بہت فرق آ جاتا ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ تعمیراتی منصوبے کراچی میں جاری ہیں۔ اس تناظر میں لاک ڈاؤن کے دوران وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے تعمیراتی شعبے کو رعایت دینے کے اعلان پر سندھ کے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ بھی اس اجلاس میں موجود تھے یہ رعایت لاک ڈاؤن کے بعد کی ہے اس میں ایک ماہ تو لگ ہی جائے گا۔
’ہماری اطلاعات کے مطابق تبلیغی جماعت میں جو وائرس پھیلا ہے وہ رائیونڈ کے اجتماع سے پھیلا اگر 15 مارچ سے لاک ڈاؤن ہو جاتا تو تبلیغی جماعت والے مبلغین رائیونڈ سے نہ نکل پاتے
’یہ وائرس تو بیرون ملک سے آنے والے افراد کے ذریعے پاکستان میں پھیلا ہے مگر رائیونڈ میں ہونے والے اجتماع میں اس نے مقامی طور پر جس کسی کو متاثر کیا، وہ جب وہاں سے نکلا تو اس نے باقی لوگوں کو بھی متاثر کیا۔‘
مراد علی شاہ کے مطابق جب ان کی حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بھی روک دی گئی۔ تاہم اس سے پہلے ہی تبلیغی جماعت کے کارکن سندھ میں داخل ہو چکے تھے اور اپنے اپنے علاقوں میں موجود تھے۔
سید مراد علی شاہ کے مطابق جب خدشات بڑھے تو تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کے حیدرآباد میں ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے کچھ مثبت آئے۔
انھوں نے بتایا کہ سندھ میں ان افراد کی تعداد پانچ ہزار کے قریب تھی۔ ان سب سے درخواست کی گئی کہ جہاں جہاں بھی مساجد میں، مدرسے یا تبلیغی مرکز میں ان کا قیام ہے وہ ادھر ہی رہیں، حکومت کی کوشش ہوگی کہ ان سب کو کھانے پینے کی سہولت فراہم کی جائے۔
’پانچ ہزار لوگوں کا ٹیسٹ کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس میں 14-15 دن لگ جائیں گے لہذا یہ فیصلہ کیا ہے کہ 15 روز ہم انھیں اپنی اپنی جگہ پر آئسولیشن میں رکھیں گے۔ اگر کسی کی طبیعت خراب ہوتی ہے تو اس کو فوری طور پر ہسپتال لے جائیں گے اور اگر ضرورت پیش آئی تو ہسپتال میں داخل کریں گے۔‘
ان کے بقول جو زائرین ایران سے بذریعہ سڑک آئے تھے انھیں تو قرنطینہ کر لیا گیا تاہم جو افراد مختلف ہوائی اڈوں پر اترے، یہ وائرس ان سے پھیلا ہے۔
ایران سے جو بذریعہ تفتان زائرین آئے تھے ان کی تعداد 1300 سے زائد تھی۔ ان سب کو قرنطینہ میں رکھا اور ایک ایک کا ٹیسٹ کیا جن میں سے 280 متاثرہ نکلے۔ جن کے ٹیسٹ نگیٹیو آئے تھے ان کو بھی 14 دن رکھا گیا اور سینٹر چھوڑنے سے قبل ان کا دوبارہ ٹیسٹ لیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان میں سے کوئی پازیٹو تو نہیں ہے۔ جب ان کے ٹیسٹ دوبارہ نگیٹیو آئے تو ہم نے ان کو چھوڑا گیا۔ میں محتاط اندازے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ وائرس ان زائرین سے نہیں پھیلا۔
بیرون ملک سے ایئرپورٹس پر آنے والے افراد کا پہلے دن سے خیال کرنا چاہیے تھا جبکہ وفاقی حکومت کی ساری توجہ اور نگاہیں ایران سے آنے والوں پر تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’صرف سندھ میں 67 ایسے متاثرہ افراد ہیں جو بیرون ملک سے آئے ہیں۔ ان میں سے صرف چھ نے ایران کا سفر کیا جبکہ زیادہ تر برطانیہ سے آنے والے ہیں۔‘
لاک ڈاؤن کے فیصلے کو درست اقدام سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پوری دنیا کا یہ ہی تجربہ ہے کہ اس سے وائرس پھیلنے کی رفتار کم ہوتی ہے کیونکہ یہ وائرس ایک دوسرے سے ملنے جلنے کی وجہ سے ہی پھیلتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے ہم نے رضاکارانہ اور اس کے بعد طاقت کے زور پر لوگوں کا باہر نکلنے کا بہانہ ختم کیا تاکہ وہ گھروں میں رہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس سے بہت فائدہ ہوا ہے۔‘
سندھ سمیت پاکستان میں لاک ڈاون 14 اپریل تک جاری رہے گا تاہم وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاون میں نرمی لائیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ ’اس وائرس کے بعد دنیا تبدیل ہو چکی ہے۔ ہم ہر شعبے اور صنعت میں کام کرنے والوں کے لیے اصول و صوابط بنائیں گے ان پر اس وقت تک عملدرآمد کرنا ہو گا جب تک اس کورونا وائرس کی ویکیسن نہیں بن جاتی۔‘
شعبہ صحت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اپریل کے وسط اور اختتام تک پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ کئی گنا بڑھ جائے گا۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ کتنا بڑھے گا اس کا درست جواب کسی کے پاس نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس درست اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں۔
کراچی کے متوسط اور پوش علاقوں کے بعد کورونا وائرس کے متاثرین اب غریب آبادیوں سے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ شہری ادارے اربن لیب کراچی کے مطابق شہر کی 60 فیصد آبادی عارضی بستیوں میں رہتی ہے جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے اعتبار سے سب سے تشویشناک بات کچی بستیاں ہیں، متوسط طبقے کے افراد تو اپنا خیال رکھ سکتے ہیں جبکہ کچی آبادیوں اور غریب بستیوں میں ایک ایک کمرے میں کئی درجن لوگ رہتے ہیں جو ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ قائم کر ہی نہیں سکتے، اگر یہاں یہ وائرس آ گیا تو صورتحال انتہائی تشویش ناک ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں

قیمتوں میں کمی کے بعد ملک بھر میں پٹرول نایاب ہوگیا

قیمتوں میں کمی کے بعد ملک بھر میں پٹرول نایاب ہوگیا

کراچی: حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک بھر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے