سرکاری اشتہارات کے اجرا اور اشتہارات کے بلز کی ادائیگی کے نئے طریقہ کار

سرکاری اشتہارات کے اجرا اور اشتہارات کے بلز کی ادائیگی کے نئے طریقہ کار

کراچی: اے پی این ایس، پی بی اے اور پی اے اے پہلے ہی اپنے پوزیشن پیپرز جمع کرواچکے ہیں لیکن اب تک مذکورہ وزارت کی جانب کوئی مشاورتی اجلاس نہیں بلایا گیا

اے پی این ایس کے مطابق وزارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کرنا اس بات کی طرف مضبوط اشارہ ہے وزارت کے لیے مشاورتی عمل کوئی معنیٰ نہیں رکھتا تھا کیونکہ وہ پہلے ہی بنیادی آزادی صحافت کو نقصان پہنچانے کے لیے مجوزہ پالیسی پر عمل درآمد کا فیصلہ کرچکی تھی۔
آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے عہدیداروں نے بتایا کہ مجوزہ طریقہ کار عمل طور پر قابل عمل نہیں ہے کیونکہ اس وقت تمام سرکاری اشتہارات، ڈسپلے سمیت کلاسیفائڈ اشتہاری ایجنسیوں کے ذریعے جاتے اور وہ اسپانسنرنگ ڈیپارٹمنٹس سے اشتہارات کی ادائیگیوں کی وصولی کرتیں اور اخبارات کے بقایات جات ادا کرتیں۔
اگر مجوزہ طریقہ کار وزارت کی جانب جانب سے نافذ کیا جاتا ہے تو اشتہاری جاری کرنے والی ایجنسیاں ادائیگیوں سے بری الذمہ ہوجائیں گی اور اخبارات کو اپنے بلوں کی وصولیوں کے لیے ادھر سے ادھر جانا پڑے گا۔
نوٹیفکیشن میں سرکاری اشتہاروں کے لیے نیا طریقہ کار تجویز کرتے ہوئے ایجنسی کا 15 فیصد فکسڈ کمیشن طے کیا گیا ہے جو مقابلہ کمیشن پاکستان کی ان واضح ہدایات کی خلاف ورزی ہے جس کے مطابق اخبارات دوطرفہ متفقہ نرخوں کے مطابق ایجنسیز سے تجارتی رعایت شیئر کرتے ہیں۔
لہٰذا اے پی این ایس کی جانب سے وزارت پر زور دیا گیا کہ وہ اس نوٹیفکیشن کو واپس لے اور نئی مجوزہ پالیسی پر تب تک عمل درآمد روکے جب تک یہ اسٹیٹ ہولڈرز کی مشاورت سے حتمی نہیں ہوجاتی۔

یہ بھی پڑھیں

قیمتوں میں کمی کے بعد ملک بھر میں پٹرول نایاب ہوگیا

قیمتوں میں کمی کے بعد ملک بھر میں پٹرول نایاب ہوگیا

کراچی: حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک بھر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے