پی آئی اے کی خصوصی پروازوں کے ذریعے ایک ہزار برطانوی شہری برطانیہ پہنچ چکے ہیں

پی آئی اے کی خصوصی پروازوں کے ذریعے ایک ہزار برطانوی شہری برطانیہ پہنچ چکے ہیں

لندن: برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ ’ہم 4 ہزار افراد کی برطانیہ واپسی کے لیے حکومت پاکستان اور پی آئی اے کے ساتھ مل کر بہت محنت کررہے ہیں اور یہ تعداد دنیا کے دیگر ممالک میں پھنسے ہوئے برطانوی شہریوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بہت سے افراد جو پرواز میں سوار ہونا چاہتے تھے طلب میں بے انتہا اضافے کی وجہ سے ناکام رہے۔
گزشتہ 5 روز کے دوران پی آئی اے کی خصوصی پروازوں کے ذریعے ایک ہزار برطانوی شہری برطانیہ پہنچ چکے ہیں تاہم ایک بڑی تعداد ہے جو اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔
اس وقت تقریباً ایک لاکھ برطانوی شہری پاکستان میں موجود ہیں جس میں سے تقریباً 21 ہزار عارضی ویزے پر برطانیہ سے آئے تھے۔
برٹش ٹرانسپورٹ سیکریٹری نے بتایا کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں 7 لاکھ 50 ہزار برطانوی شہری پھنسے ہوئے ہیں جس میں سے حکومت کمرشل پروازوں کے ذریعے ایک لاکھ 60 ہزار افراد کی اسپین، مراکش، سائپرس سے واپس وطن آنے میں مدد کرچکی ہے۔
31 مارچ تک ووہان اور پیرو سے چارٹر پروازوں کے ذریعے صرف 14 سو برطانوی شہریوں کو واپس لایا گیا تھا۔
اس سلسلے میں جرمنی کی حکومت نے جن چارٹرڈ کمپنیوں کی خدمات حاصل کیں ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ انہوں نے برطانیہ کو بھی مدد کی پیشکش کی تھی لیکن دفترخارجہ کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
برطانوی ہائی کمیشن کی فہرست میں شامل ایسے شہری جو خطرے کا شکار ہیں انہوں نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ پی آئی اے مسافروں کو ادائیگی کے لیے دفاتر آنے کا کہ رہی ہے اور آن لائن ادائیگی سے انکار کیا جارہا ہے۔
اس حوالے سے ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 11 اپریل تک کی دستیاب پروازوں کے لیے پی آئی اے مسافروں کو ڈیجیٹل ادائیگی کی تاکید کررہی ہے اس کے باوجود پریشان افراد ٹکٹ دفاتر پر جمع ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میں بدستور اضافہ

کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میں بدستور اضافہ

اسلام آباد: ڈی ایچ او آفس اسلام آباد کی رپورٹ کے گذشتہ روز اسلام آباد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے