ڈیری فارمرز نے حکومت سے خشک دودھ کی در آمد پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

ڈیری فارمرز نے حکومت سے خشک دودھ کی در آمد پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

کراچی: ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی ڈیری صنعت کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ریلیف پیکج دیا جائے اور خشک دودھ کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے

ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر گجر نے وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھ کر کہا ہے کہ تحقیقات اور کھپت کے ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ پاکستانی قوم تازہ دودھ کے استعمال کی عادی ہے جو پاؤڈر دودھ کے مقابلے میں تازہ اور صحت سے بھرپور ہوتا ہے
سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمیشن نے رپورٹ پیش کی تھی کہ پیکڈ دودھ کے زیادہ تر برانڈز ذائقہ پیدا کرنے اور شیلف زندگی بڑھانے کے لیے فارملین، کین شوگر اور تیل کی ملاوٹ کرتے ہیں جو انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ ہیں۔
پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک قرار دیا جا چکا ہے جس کو دودھ کے پاؤڈر کی درآمد کی ضرورت نہیں ہے، ڈیری فارمرز کو یوٹیلٹی بلز پر بھی سبسڈی فراہم کی جائے، اور تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ مویشی منڈیوں اور جانوروں کے بازار کھولنے کی اجازت دی جائے، مقامی ضرورت پوری ہونے تک گندم کے بھوسے، ونڈا کوالٹی اجناس اور فیڈ کی دیگر اشیا کی برآمد پر بھی پابندی عائد کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ مویشیوں اور دودھ کا شعبہ زرعی جی ڈی پی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور دیہی علاقوں میں روزگار کا زیادہ تر دار و مدار اسی شعبے پر ہے

یہ بھی پڑھیں

لی مارکیٹ میں عوام کیلئے سہولیات سے لیس نئے بیت الخلا قائم

لی مارکیٹ میں عوام کیلئے سہولیات سے لیس نئے بیت الخلا قائم

کراچی: بیت الخلا دو خواتین کے لیے اور دو مردوں کے لیے پاکستان کے پہلے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے