اسرائیلی کمپنی کے مطابق یہ سافٹ وئیر کورونا وائرس کے شکار ہر فرد کا پتا چلا سکتا ہے

اسرائیلی کمپنی کے مطابق یہ سافٹ وئیر کورونا وائرس کے شکار ہر فرد کا پتا چلا سکتا ہے

کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پرائیویسی سے متعلق کام کرنے والی کپمنی سیٹیزن لیب کے جان سکاٹ ریلٹن کا کہنا ہے کہ اگر حکومتیں اس اسرائیلی کمپنی کے سسٹم کو استعمال کرتی ہیں تو وہ بہت بے وقوف ہوں گی

ان کے مطابق یہ ایک عجیب بات ہے کہ ایک خفیہ کمپنی اس وبا کے حل کا دعویٰ کررہی ہے جبکہ وہ یہ بتانے
سے انکاری ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی کے گاہک ممالک کون سے ہیں۔
یہ کمپنی اپنے آلات کو کورونا کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے استعمال کرنے کے لیے متعارف کرا رہی ہے
سافٹ وئیر کا مقصد عالمی وبا کے مسئلے کا حل نکالنا ہے۔
ان کے مطابق حکومتوں کو اس سافٹ وئیر کی فراہمی کا مدعا یہ ہے کہ وہ اس وبا کو سمجھنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھا سکیں۔ ترجمان کے مطابق یہ سافٹ وئیر کا بہت کارگر حصہ ہے۔
این ایس او کے مطابق کمپنی کے ملازمین کو ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں ہو گی۔ تاہم کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر حکومتیں مقامی فون آپریٹرز سے ملک میں تمام صارفین کا ڈیٹا حاصل کرنے کا کہیں گی تو اس صورت میں این ایس اور کا سافٹ وئیر اس عمل میں بہت سودمند ثابت ہوگا۔
اسرائیلی کمپنی کے مطابق یہ سافٹ وئیر کورونا وائرس کے شکار ہر فرد کا پتا چلا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے سے ایسا شخص جہاں جہاں گیا اور جن جن لوگوں سے ملا یہ سافٹ وئیر سب بتا دے گا۔
کمپنی کے دعوے کے مطابق کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے سے قبل یہ سافٹ وئیر متاثرہ افراد کی نشاندہی کر سکتا ہے۔
ویڈیو کانفرنس لنک کے ذریعے این ایس او نےاس کا ایک عملی مظاہرہ کر کے دکھایا کہ کمپنی کا یہ نظام کیسے کام کرتا ہے۔
اس کانفرنس میں سافٹ وئیر کے ذریعے اسرائیل کے ایک علاقے کا نقشہ دکھایا گیا جہاں کورونا وائرس کے متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد سامنے آئی ہے۔
کمپنی نے کانفرنس کے دوران سکرین بڑی کر کے ایک نامعلوم آئی ڈی کے ذریعے اس وائرس میں مبتلا افراد کے انفرادی فونز کا نقشہ تیار کر کے دکھایا۔
اس میں وہ تمام تفصیلات بھی ظاہر کی گئیں کہ کیسے، کب اور کہاں یہ فون نمبر دیگر فون نمبرز سے رابطے میں رہا۔
اس نظام کو چلانے والے انجنیئرز نے عملی مظاہرہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اس کا استعمال تین طریقوں سے ممکن ہے:

* کہاں نئے مریض سامنے آنا کا امکان موجود ہے۔
* ہسپتال میں کب وینٹیلرز لے جانے کی ضرورت ہے۔
* کب کسی ملک کے مخلتف حصے کے لوگوں کو قرنطینہ سے باہر آنے کا کہا جا سکتا ہے۔
این ایس او نے کہا کہ اس وقت دنیا میں متعدد حکومتیں نظام کا تجربہ کررہی ہیں۔ کپمنی نے ان ممالک کی تفصیلات دینے یا یہ بتانے سے انکار کیا ہے کہ کوئی ملک اس وقت اس سافٹ وئیر کو عملی طور پر استعمال کر رہا ہے۔
کمپنی کے ایک ترجمان نے مزید کہا کہ این ایس او نے یہ شرط عائد کر رکھی ہے کہ مختلف ممالک کے متعلقہ حکام اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے یورپ کے جی ڈی پی آر پرائیویسی قانون یا ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق وہ اپنے مقامی قوانین پر عمل کو یقینی بنائیں گے۔
سافٹ وئیر کا صارفین کا ڈیٹا حاصل کرنے سے متعلق طریقہ کار برطانیہ اور بہت سے یورپی ممالک میں رائج ایپ کے زریعے رابطہ نمبرز تلاش کرنے کے طریقوں سے یکسر مختلف ہے۔
اس طرح کی ایپس صارفین کو آگاہ کرنے کے لیے فون کے بلوٹوتھ کنکشن استعمال کریں گی تاکہ وہ صارفین کو اس صورت میں خبردار کرسکیں اگر وہ وائرس سے متاثرہ کسی فرد سے رابطے میں رہا۔
ایسی ایپ کوئی صارف اپنی مرضی سے ڈاؤن لوڈ کرنے مجاز ہو گا۔
کینیڈا میں کام کرنے والی سٹیزن لیب نے اس سے قبل اسرائیلی کمپنی این ایس او کے پیگاسس سافٹ ویئر کی تحقیقات کیں تھیں۔
ان تحقیقات کے نتیجے میں سٹیزن لیب کو ایسے شواہد ملے کہ اس اسرائیلی کمپنی نے میکسیکو سے لے کر مشرق وسطیٰ تک خفیہ طور پر صحافیوں اور سیاسی مخالفین کے فون نمبرز پر یہ سافٹ ویئرانسٹال کیا تھا۔
ریلٹن کے مطابق این ایس او نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ کیسے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ کیسے ایک مشہور برانڈ حکومتوں کے ذریعے شہریوں کو پریشانی میں مبتلا کرتی ہے کہ ان کے ڈیٹا تک ان کی مرضی بغیر رسائی حاصل کی جا رہی ہے۔
اسرائیل کی وزارت دفاع این ایس اور گروپ کے ساتھ مل کر ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت اس بات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کیسے انفرادی طور پر شہری کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیر دفاع نفتالی بینٹ نے این ایس او کو شہریوں کے انتہائی حساس ڈیٹا تک رسائی کی تجویز دی ہے۔ اسرائیلی شہریوں کا یہ ڈیٹا شن بیٹ سکیورٹی سروسز نامی کمپنی نے زریعے حاصل کیا گیا تھا۔
اسرائیلی ارکان پارلیمان نے اس منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایک نجی کمپنی کو شہریوں کا ڈیٹا دینے سے شدید تحفظات جنم لیں گے۔
سرویلئنس سوفٹ ویئر بنانے والی اس کمپنی کے خلاف گذشتہ سال واٹس ایپ نے اس الزام کی بنیاد پرقانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا کیونکہ اس کمپنی نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان اور صحافیوں کے فون ہیک کرنے کی غرض سے ان کے فون نمبرز پر پیغامات بھیجے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

نائب افغان صدر کے قافلے پر بم حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک

نائب افغان صدر کے قافلے پر بم حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک

کابل: آج صبح افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سڑک کنارے بم دھماکے کے نتیجے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے