چھینٹ کا فرغل دیکھ کر غالبؔ کا دل بھر آیا

چھینٹ کا فرغل دیکھ کر غالبؔ کا دل بھر آیا

دوست کی دل داری کا تقاضا یہ تھا کہ اس کے ساتھ ایسے طریق پر سلوک کیا جائے کہ اسے اپنی بے چارگی اور بے بسی کا احساس نہ ہو اور پیش کردہ ہدیہ قبول کرتے ہوئے عار نہ آئے

غالبؔ نے یہ عرض مدِنظر رکھ کر چھینٹ کے فرغل کی بے حد تعریف کی۔
پوچھا کہ یہ چھینٹ کہاں سے لی ہے اور (دوست سے) درخواست کی کہ مجھے بھی اس کا فرغل بنوا دیا جائے۔
دوست نے بلا تکلف کہا کہ ”اگر آپ کو یہ بہت پسند ہے تو یہی لے لیجیے۔“
غالب نے کہا، ”جی تو یہی چاہتا ہے کہ آپ سے ابھی چھین لوں، لیکن جاڑا شدت سے پڑ رہا ہے، آپ یہاں سے مکان(اپنے گھر تک) کیا پہن کر جائیں گے۔“
اسی کے ساتھ اپنا مالیدے کا نیا چغہ (اپنے دوست کو) پہنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں

فنکارہ عتیقہ اوڈھو کو 2 بوتل شراب کیس باعزت بری کردیا گیا

فنکارہ عتیقہ اوڈھو کو 2 بوتل شراب کیس باعزت بری کردیا گیا

راولپنڈی: عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فنکارہ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں لہذا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے