روز کما کر کھانے والے مکینوں کے صبر کا پیمانہ لبریز

روز کما کر کھانے والے مکینوں کے صبر کا پیمانہ لبریز

کراچی: لیاری کے مشتعل مکینوں جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ان کا کہنا تھا کہ کوورنا وائرس سے بچاؤ کے لیے شہر میں جو لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے اس کی وجہ سے روز کما کر کھانے والوں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے

احتجاج میں شامل خواتین کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لییکیے جانے والے اقدامات اپنی جگہ لیکن ان لوگوں کا بھی سوچا جائے جو ایک وقت کی روٹی کو بھی ترس گئے ہیں ، روزانہ کام کر کے کمانے والے مرد گھروں میں بیٹھے ہیں حکومتی سطح پر بھی کوئی امداد نہیں دی جا رہی ابھی تک اس بات کا تعین ہی نہیں ہو سکا کہ لاک ڈاؤن سے روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کو کس فارمولے کے تحت گزر بسر کرنے کے لیے راشن فراہم کیا جائیگا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ باتیں سب کر رہے ہیں لیکن عمل درآمد کو یقینی بنانے میں کوئی بھی سامنے نہیں آرہا ، اگر کہیں راشن تقسیم کیا جاتا ہے تو وہاں پر اتنی عوام ہوتی ہے کہ جو حقدار ہوتے ہیں وہ بغیر راشن لیے لوٹ آتے ہیں اور جن میں راشن لوٹنے کی طاقت اور ہمت ہوتی ہے وہ سرخرو ہو کر راشن کے ایک سے زائد بورے لے کر چلے جاتے ہیں۔
لیاری کے مشتعل مکینوں کی جانب سے جمعرات کی دوپہر تقریباً 2 گھٹنے تک جاری رہنے والے احتجاج کے دوران ماڑی پور روڈ کے دونوں ٹریک بند ہونے سے ٹریفک معطل ہوگیا اور دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس کے باعث ملحقہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا تاہم پولیس نے مظاہرین کو ان کے مطالبات اعلیٰ حکام تک پہنچانے کی یقین دہانی پر منتشر کر کے ٹریفک بحال کرا دیا۔

یہ بھی پڑھیں

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 100 ارب کی کرپشن بے نقاب ہوگئی

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 100 ارب کی کرپشن بے نقاب ہوگئی

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 100 ارب کی کرپشن بے نقاب ہوگئی، سندھ لوکل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے