احتیاط کے طور پر چین کے شہر شینزن میں بلی اور کتے کا گوشت کھانے پر پابندی عائد

احتیاط کے طور پر چین کے شہر شینزن میں بلی اور کتے کا گوشت کھانے پر پابندی عائد

چین: تیزی سے کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد کچھ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ یہ وائرس جانوروں سے انسان میں منتقل ہوتا ہے

جو افراد، چمگادڑ، چوہوں، سانپ اور کتوں کا گوشت کھاتے ہیں ان پر کورونا وائرس کے حملے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔
ایسے میں شہر شینزن کے حکام کا کہنا ہے کہ کتے اور بلی کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے جس کا اطلاق یکم مئی سے ہو گا۔
بلی اور کتے پالتو جانور بھی ہیں جن سے انسان کو قریبی لگاؤ ہوتا ہے، ایسی صورت میں ان کا گوشت کھانا بھی مناسب نہیں ہے اس کے بدلے مچھلی جھینگے کھانے کی عادت ڈالی جا سکتی ہے اس سے کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔
اس اقدام پر ہیومن سوسائٹی انٹرنیشنل برائے محکمہ وائلڈ لائف کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ شینزن دنیا کا وہ پہلا شہر ہے جس نے عالمی وبا کورونا سے سبق سیکھتے ہوئے سنجیدگی سے قدم اٹھایا ہے۔
نائب صدر کا کہنا تھا کہ وبائی بیماری سے بچنے کے لیے کچھ تبدیلیاں درکار ہیں اور یہ ان میں سے ایک ہے، اس تجارت اور جنگلی حیات کی کھپت کو روکنے کے لیے شینزن کا جرات مندانہ اقدام دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے مثال ہے کہ انہیں بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

امریکا: اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب ریاست جارجیا کی ارون کاؤنٹی کے ایک حراستی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے