امریکا کو چاہئے کہ وہ صحت کے معاملے پر سیاست کرنا چھوڑ دے

امریکا کو چاہئے کہ وہ صحت کے معاملے پر سیاست کرنا چھوڑ دے

چین: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ چین کی جانب سے کورونا وائرس سے متعلق فراہم کردہ اعدادوشمار تھوڑے کم لگتے ہیں

قومی سلامتی کے مشیر نے کہا تھا کہ واشنگٹن کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ بیجنگ کے اعدادوشمار درست ہیں یا نہیں۔
ٹرمپ نے بتایا تھا کہ انہیں چین کے اعداد و شمار کے بارے میں انٹلی جنس رپورٹ موصول نہیں ہوئی لیکن انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ تعداد تھوڑی بہت کم معلوم ہوتی ہے۔
زشتہ جمعہ کو چینی صدر شی جنپنگ کے ساتھ فون پر گفتگو کی تھی کہ چین نے کورونا وائرس پھیلنے سے متعلق کیسز نمٹائے لیکن اتنے زیادہ نہیں‘۔
کال کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے تنقیدی رویہ اختیار کرنے کے بجائے یہ بھی کہا کہ امریکا کے چین کے ساتھ ’بہت اچھےتعلقات‘ ہیں اور دونوں فریق رواں سال کے شروع میں کئی ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے کو برقرار رکھنا چاہیں گے۔
ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے اسی بریفنگ کو بتایا تھا کہ چین کی جانب سے پیش کردہ اعداد وشمار کے بارے میں تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ اس بارے میں بہت ساری عوامی رپورٹنگ ہے کہ آیا تعداد بہت کم ہے۔
رابرٹ اوبرائن نے کہا آپ کو ان خبروں تک رسائی حاصل ہوگئی جو چینی سوشل میڈیا سے آرہی ہیں، ہمارے پاس ان تعداد میں سے کسی کی تصدیق کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کورونا کو ’چینی وائرس‘ قرار دینے پر فرانس میں چین کے سفارتخانے نے کہا تھا کہ دراصل یہ وائرس امریکا سے شروع ہوا تھا۔
چینی سفارتخانے نے سوال اٹھایا تھا کہ ’گزشتہ برس ستمبر میں (امریکا) میں شروع ہونے والے فلو کی وجہ سے 20 ہزار اموات میں کتنے مریض کورونا وائرس کے تھے؟‘

یہ بھی پڑھیں

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

امریکا: اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب ریاست جارجیا کی ارون کاؤنٹی کے ایک حراستی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے