پاناما کا لاک ڈاؤن دنیا کے دیگر ممالک سے کافی مختلف ہے

پاناما کا لاک ڈاؤن دنیا کے دیگر ممالک سے کافی مختلف ہے

جزیرہ پاناما: پاناما کو بھی ملک میں بڑھتے کیسز کا سامنا ہے اور 2 اپریل کی صبح تک وہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 1300 سے زائد ہوچکی تھی جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد 32 تک جا پہنچی تھی

حکومت نے کورونا کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے مارچ کے وسط کے بعد ہی جزوی لاک ڈاؤن اور لوگوں کے باہر نکلنے پر پابندیاں عائد کردی تھیں، مگر عوام کی جانب سے ہدایات پر عمل نہ کیے جانے کے بعد حکومت نے یکم اپریل سے منفرد لاک ڈاؤن نافذ کردیا۔
پاناما کی حکومت نے یکم اپریل سے ملک کے مرد و خواتین کے ایک ساتھ باہر نکلنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے دونوں صنفوں کے لیے لوگوں کے لیے الگ الگ دن مختص کردیے۔
پاناما کی حکومت نے خواتین کو پیر، بدھ اور جمعہ جب کہ مرد حضرات کو منگل، جمعرات اور ہفتے کو گھر سے نکلنے اور ضروری چیزیں لانے کی اجازت دی ہے، تاہم ساتھ ہی دونوں جنس کے افراد پر اتوار کو گھر سے باہر نکلنے پر پابندی ہوگی۔
پاناما حکومت کے مطابق مرد و خواتین کو اتوار کے دن گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ باقی دنوں میں بھی دونوں صنف کے لوگ ایک ساتھ گھر سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔
حکومت نے جہاں کورونا سے بچنے کے لیے مرد و خواتین کو الگ الگ دنوں میں گھر سے نکلنے کی اجازت دی ہے، وہیں حکومت نے لوگوں کے گھر سے باہر رہنے کے وقت کو بھی محدود کردیا ہے اور دونوں جنس کے لوگوں کو محض 2 گھنٹے تک باہر رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔
حکام نے لوگوں پر واضح کیا ہے کہ وہ محض 2 گھنٹے میں تمام چیزیں خرید کر واپس آجائیں اور باقی پورا وقت گھر میں رہیں۔
یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حکومت نے گھروں میں بھی مرد و خواتین کو الگ الگ رہنے کی ہدایات کی ہیں یا نہیں، تاہم حکومت نے تمام لوگوں کو ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کی سخت ہدایات کی ہیں۔
پاناما خطے کا کم آبادی والا ملک بھی ہے، اس کی مجموعی آبادی 40 لاکھ سے کچھ زیادہ ہے، جزیرہ نما اس ملک کی سرحدی کوسٹا ریکا اور کولمبیا سے ملتی ہیں اور یہ ملک سیاحت اور آف شور کمپنیوں کے کاروبار کے حوالے سے منفرد اہمیت رکھتا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے اسکینڈل پاناما لیکس کا تعلق بھی اسی ملک سے تھا، پاناما لیکس کے ذریعے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق اسی ملک کی ایک قانونی فرم ’موزیک فانسیکا‘ نے دنیا بھر کے امیر و سیاست دانوں کو آف شور کمپنیاں بنا کر دیں جن کے ذریعے امیر لوگوں نے اپنے پیسوں کو محفوظ بناتے ہوئے خود کو ٹیکس سے بچایا۔
موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل دستاویزات لیک ہوئی تھیں جن کی International Consortium of Investigative Journalists نے جرمن اخبار کے ساتھ مل کر تحقیق کی تھی۔
دنیا بھر سے درجنوں صحافیوں نے پاناما لیکس کی تحقیقات میں حصہ لیا تھا اور اس اسکینڈل میں پاکستان کے تقریبا 500 افراد کے نام سامنے آئے تھے۔
دنیا میں تہلکہ مچانے والے پاناما اسکینڈل سامنے آنے کے بعد 2018 میں موزیک فانسیکا کو بند کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

چینی عدالت نے پاکستانی طالبعلم کو قتل کرنے والے شہری کو سزائے موت سنادی

چینی عدالت نے پاکستانی طالبعلم کو قتل کرنے والے شہری کو سزائے موت سنادی

بیجنگ: عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کہ کونگ کو ایک بالغ شخص ہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے