ٹیلی اسکول‘ ٹی وی چینل کا آغاز کیا جائےگا

ٹیلی اسکول‘ ٹی وی چینل کا آغاز کیا جائےگا

اسلام آباد: ایسے وقت میں جب تمام تدریسی ادارے وائرس کی وبا کی وجہ سے بند ہیں پی ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اس نازک وقت میں وزارت تعلیم کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی

پی ٹی وی چینل کے ذریعے تعلیم کو فروغ دینے کے لیے 8 گھنٹے پر مشتمل نشریات ہوں گی۔
وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتایا کہ معاہدے کے مطابق مختص کردہ چینل آئندہ 3 ماہ میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام شروع کردے گا۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ چینل صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک نشریات جاری رکھے گا۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ صبح کے اجلاس کے دوران جونیئرز کوکلاسز دینے کے بعد سینئرز کو کلاسز دی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینل طلبہ کے تعلیمی نقصانات کو کم کرنے کے لیے کورونا وائرس وبائی مرض کے بعد تعلیمی مواد کی فراہمی کا ایک متبادل طریقہ کار ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مذکورہ چینل ممکنہ طور پر اگلے 10 دن میں اس مواد کی نشریات شروع کردے گا۔
انہوں نے کہا کہ مواد کو حتمی شکل دینے کے بعد اسے پی ٹی وی کے حوالے کردیا جائے گا۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ اگرچہ براہ راست تدریس اور کلاس روم کے ماحول کا کوئی مقابلہ نہیں لیکن ہمیں امید ہے کہ یہ متبادل طریقہ کار طلبہ کے لیے بھی مددگار ثابت ہوگا۔
شفقت محمود نے کہا کہ یکم جون کو تعلیمی ادارے کھولے جائیں گے لیکن وزارت نے پی ٹی وی کے ساتھ 3 ماہ کے معاہدے پر دستخط کیے کیونکہ ایک مہینہ کورونا وائرس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے دوران بیک اپ ٹائم ہے۔
اشتہاروں کے ذریعے والدین اور طلبہ کو مذکورہ چینل کے شیڈول کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔
فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای) کے ذرائع نے بتایا کہ ماہرین کی ایک بڑی تعداد نے مواد کی تیاری میں حصہ لیا۔
انہوں نے بتایا کہ متعدد نجی کمپنیوں نے بھی مواد فراہم کیا اور مفت میں مواد کو حتمی شکل دینے میں ان کی مدد کی۔
ایف ڈی ای کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ مواد میٹرک تک مکمل ہوچکا ہے اور اگلے تین دن میں اسے پی ٹی وی کے حوالے کردیا جائے گا کچھ دنوں کے بعد ہم انہیں انٹرمیڈیٹ سے متعلق دیگر مواد فراہم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں

نیپرا بجلی کے نرخوں میں ایک روپے 62 پیسے اضافے کی منظوری

نیپرا بجلی کے نرخوں میں ایک روپے 62 پیسے اضافے کی منظوری

اسلام آباد: نیپرا کے ایک ترجمان نے کہا کہ ریگولیٹر کے نئے نرخ وفاقی حکومت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے