تعلیمی رکاوٹ کم سے کم کرنے کے لیے تعاون کی ضرورت

تعلیمی رکاوٹ کم سے کم کرنے کے لیے تعاون کی ضرورت

اسلام آباد: کچھ جامعات میں آن لائن کلاسز کی شکایات پر مواد کا معیار، ادائیگی اور رابطے کو جانچنے کے لیے ان کورسز کی معلومات طلب کرلیں

ایچ ای سی کووِڈ-19 وبا کے باعث تبدیلی ہوتی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جامعات کی قیادت کے ساتھ رابطے میں تا کہ ان جگہوں کی نشاندہی کی جاسکے جہاں تعلیمی رکاوٹ کم سے کم کرنے کے لیے تعاون کی ضرورت ہے‘۔
مختلف صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہنگامی منصوبے تیار کیے گئے ہیں، اگر موجودہ صورتحال 31 مئی تک برقرار رہی تو تمام یونیورسٹیز کو آن لائن تعلیم کا سہارا لینا ہوگا۔
چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ ایچ ای سی نے ڈیجیٹل لحاظ سے جدید جامعات کو آن لائن کورسز پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے تا کہ ایک واحد ’بگ بینگ لانچ‘ سے سسٹم میں آنے والے مسائل سے بچا جاسکے۔
اس بات کی واضح ہدایات دے دی گئی ہیں کہ تعلیم کے معیار پر کسی قیمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر جامعات کو ان کے تعلیمی نظام کے انتظامات کے لیے وقت درکار ہوا تو ان کے پاس اسے مکمل کرنے کے لیے 31 مئی تک کا وقت ہے۔
چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ ’اب تک بنیادی آن لائن مواد کی نگرانی کے لیے آئی ٹی سہولیات، سافٹ ویئرز اور ٹیکنالوجی سپورٹ کے لیے 3 کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں اسی دوران تمام سرکاری جامعات کو آن لائن مباحثے اور اجلاس کے لیے مائیکرو سافٹ ٹیم سوفٹ ویئر تک مفت رسائی دے دی گئی ہے‘۔
ایچ ای سی اور مائیکرو سوفٹ اس پلیٹ فارم کو ہموار طریقے سے متعارف کروانے کے لیے مل کر کام کررہے ہیں۔
ایک بیان کے مطابق ایچ ای سی نے سوشل میڈیا پر آن لائن تعلیم کے حوالے سے اٹھائے گئے تحفظات کے حوالے سے تمام معلومات اکٹھا کرلی ہیں، انٹرنیٹ تک رسائی کے مسائل پر انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور حل تلاش کرنے والے لیے سافٹ ویئر ماہرین سے بھی مدد لی جارہی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں

نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کو روکنے لیے قانونی طریقہ کار پر غور

نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کو روکنے لیے قانونی طریقہ کار پر غور

اسلام آباد: اب اس معاملے پر وفاقی حکومت بھی میدان میں آ گئی ہے اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے