زیر سماعت قیدیوں کی جیلوں سے رہائی یا اس سلسلے میں کوئی بھی حکم دینے سے روک دیا

زیر سماعت قیدیوں کی جیلوں سے رہائی یا اس سلسلے میں کوئی بھی حکم دینے سے روک دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ایک صفحے پر مشتمل درخواست پیش کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اجمل رضا بھٹی نے اس کیس میں فریق بننے کی استدعا کی اور اس معاملے پر عدالت کی معاونت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا

درخواست میں یہ بات واضح نہیں تھی کہ اگر عدالت نے انہیں فوری طور پر نہ سنا تو ان کا کیا نقصان ہوگا۔
یف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظہر عالم خان مندوخیل، جسٹس سجاد علی شاہ، اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل بینچ نے قیدیوں کی ضمانت کے خلاف اپیل کی سماعت کی تھی۔
گزشتہ سماعت میں عدالت نے تمام ہائی کورٹس اور صوبائی حکومتوں، اسلام آباد اور گلگت بلتستان کی انتظامیہ سمیت متعلقہ حکام کو یکم اپریل تک نوول کورونا وائرس کے باعث زیر سماعت قیدیوں کی جیلوں سے رہائی یا اس سلسلے میں کوئی بھی حکم دینے سے روک دیا تھا۔
سپریم کوٹ بینچ 20 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عالمی وبا کے پیشِ نظر 408 زیر سماعت قیدیوں کو ضمانت دینے کے فیصلے کے ذریعے از خود نوٹس کے اختیار کو چیلنج کرنے کی درخواست کا جائزہ لے گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف مذکورہ پٹیشن ایڈووکیٹ سید نایاب حسن گردیزی نے راجا محمد ندیم کی جانب سے دائر کی تھی۔
دوسری جانب نئی درخواست میں اجمل رضا بھٹی نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ ان کے قابلِ قدر حقوق مختلف کیسز سے منسلک ہیں جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کے معاملے سے منسلک ہیں۔
انہوں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ وہ عدالت کی معاونت کرنا چاہتے ہیں اس لیے انہیں فریق بننے کی اجازت دی جائے۔
ان کا موقف تھا کہ اگر انہیں اس کیس میں فریق نہ بنایا گیا اور سنا نہیں گیا تو انہیں اس معاملے میں ناقابل تلافی نقصان اور قانونی چوٹ پہنچے گی۔
سپریم کورٹ نے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اسلام آباد کی مرکزی اور کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ کی رجسٹری عدالت میں کام کے اوقات میں کمی کا اعلان کیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیر سے جمعرات اور ہفتے کے روز کام کا نیا دورانیہ صبح ساڑھے 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ہوگا جبکہ جمعے کے دن یہ اوقات ساڑھے 8 بجے سے 12 بجے ہوں گے۔
چیف جسٹس نے یہ نوٹیفکیشن سپریم کورٹ کے 1980 رولز کے آرڈر 2 کے تحت جاری کیا جو فوری طور پر نافذ ہوگا اور 7 اپریل تک لاگو رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں

وفاقی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف کیسز کی سماعت

وفاقی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف کیسز کی سماعت

اسلام آباد: شہزاد اکبر، سیکرٹری داخلہ نسیم کھوکھر، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات، آئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے