علامہ کمال الدّین دمیری کا نام ماہرِ حیوانات اور عظیم محقق کی حیثیت سے محفوظ ہے

علامہ کمال الدّین دمیری کا نام ماہرِ حیوانات اور عظیم محقق کی حیثیت سے محفوظ ہے

  قاہرہ : علامہ کے حالاتِ زندگی پر دست یاب اور مستند معلومات سے ہم جان سکتے ہیں کہ انھوں نے ابتدائی اور اس دور کے مطابق تمام ضروری تعلیم قاہرہ سے حاصل کی، اس کے بعد جامعہ ازہر میں درس و تدریس میں مصروف ہو گئے

ان کی شہرہ آفاق کتاب “حیوٰۃ الحیوان” کو شاہ کار مانا جاتا ہے۔
ان کی کنیت “ابوالبقا” ہے، مصر ان کا وطن تھا جہاں انھوں نے 1349 میں “دمیرہ” نامی علاقے کے ایک گھر میں‌ آنکھ کھولی۔
وہ اپنے وقت کے ایک عابد اور پرہیز گار انسان تھے۔ ان کی زندگی کا کچھ عرصہ مکہ میں بھی گزرا اور اس دورا ن وہاں‌ بھی درس و تدریس میں مصروف رہے۔
دمیری نے مختلف علوم کی تحصیل میں اپنے وقت کی باکمال اور نام ور شخصیات سے استفادہ کیا۔
ان کی مذکورہ تصنیف میں جانوروں کے خصائل اور خصوصیات ہی نہیں بلکہ ان کی شرعی حلّت، ان کے چیدہ چیدہ طبی فوائد سے بھی بحث کی گئی ہے۔
کمال الدین محمد بن موسیٰ بن عیسیٰ بن علی الدمیری المصری۔ شمس الدین سخاوی کہتے ہیں کہ علامہ کا نام پہلے کمال الدین تھا لیکن بعد میں اپنا نام کمال الدین محمد رکھا اور خود علامہ نے اپنی تصانیف میں لکھا ہے کہ اِس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ بطور برکت اِنتساب ہوجائے۔
جامعۃ الازہر، قاہرہ میں خود کو تعلیم کے لیے وقف کر دیا۔ پھر اِس انہماک کے ساتھ حصولِ علم میں لگے رہے کہ اپنے وقت کے جلیل القدر علما میں شمار ہونے لگے، یہاں تک کہ عہدۂ قضاء پیش کیا گیا لیکن علامہ دمیری نے اِس عہدے سے اِنکار کر دیا۔ تصوف میں درک تھا۔ عابد و زاہد تھے۔
تاریخی کتب میں اپنے وقت کے اس جید عالم کی وفات کا سن 1405 تحریر ہے۔ ان کا انتقال قاہرہ میں ہوا اور مقبرہ الصوفیہ سعید السعد میں تدفین کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

بچے بڑی حد تک کووڈ 19 کے بدترین اثرات سے محفوظ رہتے ہیں

بچے بڑی حد تک کووڈ 19 کے بدترین اثرات سے محفوظ رہتے ہیں

کووڈ 19 کے شکار ایک فیصد سے بھی کم بچے اس بیماری کے نتیجے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے