ماہرین نے لچکدار اور نرم پالیمر سے دماغی پیوند بنانے اور چوہوں پر آزمائش کے کامیاب تجربات

ماہرین نے لچکدار اور نرم پالیمر سے دماغی پیوند بنانے اور چوہوں پر آزمائش کے کامیاب تجربات

بوسٹن: کئی امراض کی شناخت کے لیے دماغ کے اندر چپ اور پیوند امپلانٹس لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن اپنی دھاتی ساخت اور سختی کی وجہ سے الٹا نقصان ہوسکتا ہے

انسانی دماغ نرم اور حساس ترین عضو ہے جبکہ دوسری جانب دھات اور برقی آلات پر مشتمل دماغی پیوند اتنے سخت ہوتے ہیں کہ وہ اطراف کے حساس خلیات کو نقصان پہنچاسکتے ہیں اور شدید جلن کی وجہ بن سکتے ہیں۔
میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے نرم پیوند تیار کیا ہے جو اطراف کی بافتوں کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
اس طرح یہ سخت امپلانٹس کا متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایسے پیوند کو مرگی، پارکنسن اور دیگر دماغی امراض کے علاج یا ان کی شدت کم کرنے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
نرم پلاسٹک، یا پالیمر سے بنایا گیا ہے لیکن اس میں بجلی گزرسکتی ہے۔ پالیمر کی خاصیت مائع کی طرح جو دیکھنے میں ٹوتھ پیسٹ کی طرح لگتی ہے۔ اس کے بعد تھری ڈی پرنٹر میں داخل کرکے اس پر باقی ماندہ سرکٹ اور دیگر اجزا چھاپے جاسکتے ہیں۔
ایک چھوٹا پیوند بنایا گیا اور اس پر برقی سرکٹ کاڑھا گیا ۔ اس کے بعد ایک چوہے کے دماغ میں لگایا گیا تو وہ کسی پریشانی کے بغیر پھرتا رہا۔ اس دوران امپلانٹ سے چوہے کی دماغی کیفیت کو نوٹ کیا اور سگنل کو پڑھنا شروع کیا۔
توقع ہے کہ اس طرح سے صرف 30 منٹ میں ہی امپلانٹ یا پیوند تیار کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

سونگھنے کے ٹیسٹ کی بدولت دماغ کے جاگنے سونے اور بے ہوشی کے مختلف مدارج

سونگھنے کے ٹیسٹ کی بدولت دماغ کے جاگنے سونے اور بے ہوشی کے مختلف مدارج

کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت مریضوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے