سانس کے نظام پر اثر انداز ہونے والے وائرسز کی طرح کورونا وائرس چھوٹے قطروں کے ذریعے پھیلتا

اس بات کے بھی شواہد ہیں کہ یہ وائرس انسانی اخراج میں بھی موجود ہوتا ہے اسی لیے جو لوگ بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد اپنے ہاتھ صحیح سے نہیں دھوتے وہ جس چیز کو ہاتھ لگائیں اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں

امریکہ میں سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ کسی ایسی جگہ پر ہاتھ لگانا جہاں یہ وائرس ہو اور پھر اسی ہاتھ کو اپنے چہرے پر لگانا اس وائرس کے پھیلاؤ کا مرکزی طریقہ نہیں ہے۔
اس کے باوجود سی ڈی سی اور عالمی ادارہِ صحت ڈبلیو ایچ او کا اسرار ہے کہ ہاتھ دھونے اور سطح کو بار بار صاف کرنا اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم ترین اقدام ہے۔
اگرچہ ہمیں ابھی یہ معلوم نہیں کہ کتنے کیسز سطح کو چھونے کی وجہ سے ہوئے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں پتا کہ یہ وائرس کتنی دیر تک انسانی جسم کے باہر زندہ رہتا ہے۔ ماضی کی کچھ تحقیقوں سے پتا چلا ہے کہ اس سے ملتے جلتے وائرس میٹل، شیشے یا پلاسٹک پر نو دن تک رہتے ہیں اگر انھیں صحیح سے صاف نہ کیا جائے۔
کم درجہِ حرارت میں تو کچھ 28 دن تک بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔
کورونا وائرسز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں کئی قسم کی سرفیسز پر زندہ رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اور محققین ابھی یہ سمجھنا شروع کر رہے ہیں کہ یہ وائرس پھیلتے کیسے ہیں۔
امریکہ میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) میں وائرسز کے ماہر نیلجے وان دورمالن مختلف سرفیسز پر ان وائرسز پر ٹیسٹ کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔
ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ کھانسنے کے بعد یہ وائرس ہوا میں تین گھنٹے تک رہ سکتا ہے۔
کھانسی کے ایک سے پانچ مائیکرو میٹر چھوٹے چھوٹے قطرے ہوا میں کئی گھنٹوں تک رہ سکتے ہیں۔ یہ سائز انسانی بال سے 30 گنا زیادہ کم ہے۔
یعنی کسی بغیر فلٹر والے اے سی کے نظام میں یہ زیادہ سے زیادہ کچھ گھنٹے ہی رہ سکتا ہے کیونکہ جہاں ہوا گھوم رہی ہو وہاں پر یہ قطرے جلدی سرفیسز پر بیٹھ جاتے ہیں۔
این آئی ایچ کی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ یہ وائرس گتے پر زیادہ دیر تک، یعنی 24 گھنٹے تک زندہ رہتا ہے اور پلاسٹک اور سٹیل کی کسی سطح پر یہ دو سے تین دن تک رہ سکتا ہے۔
یعنی دروازوں کے ہینڈلوں پر، ٹیبلوں پر، اور پلاسٹک کوٹڈ دیگر سطحوں پر یہ زیادہ عرصے تک رہے گا۔ مگر محقیقین کو یہ ضرور پتا چلا ہے کہ کاپر کی سطحوں پر یہ چار گھنٹوں میں مر جاتا ہے۔
این آئی ایچ کی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ یہ وائرس گتے پر زیادہ دیر تک، یعنی 24 گھنٹے تک زندہ رہتا ہے اور پلاسٹک اور سٹیل کی کسی سطح پر یہ دو سے تین دن تک رہ سکتا ہے۔
یعنی دروازوں کے ہینڈلوں پر، ٹیبلوں پر، اور پلاسٹک کوٹڈ دیگر سطحوں پر یہ زیادہ عرصے تک رہے گا۔ مگر محقیقین کو یہ ضرور پتا چلا ہے کہ کاپر کی سطحوں پر یہ چار گھنٹوں میں مر جاتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگر کسی سطح کو 62 سے 71 فیصد الکوحل والے یا 0.5 فیصد ہائیڈروجن پر آکسائد والے یا گھریلو بلیچ جیسے کسی محلول سے صاف کیا جائے تو وہاں کورونا وائرسز ایک منٹ کے اندر ختم ہو جاتے ہیں۔
زیادہ درجہ حرارت اور زیادہ نمی میں بھی کورونا وائرسز جلدی مر جاتے ہیں۔ محققین کی رائے میں اس جیسے کورونا وائرسز 56 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ گرمی میں مر جاتے ہیں مگر یہ اتنا گرم ہے کہ اس درجہِ حرارت کے پانی میں نہانے سے انسانی جلد کو نقصان ہو سکتا ہے۔
ابھی تک یہ تحقیق سامنے نہیں آئی کہ کپڑوں یا اس جیسے سرفیسز جن کو ڈس انفیکٹ کرنا قدرے مشکل ہے، وہاں یہ وائرس کتنی دیر تک رہتا ہے۔
راکی ماؤنٹین لیبز کے وینسنٹ منسٹر کہتے ہیں کہ ’ہمارے خیال میں کسی ایسی سطح جہاں وہ جذب ہو سکتا ہو جیسے کہ کپڑے وہاں یہ زیادہ جلدی خشک ہو جاتا ہے مگر ان سے چپکا رہتا ہے۔
درجہِ حرارت اور نمی کے تناسب کا بھی اس میں عمل دخل ہے کہ یہ وائرس کتنی دیر تک انسانی جسم کے باہر زندہ رہ سکتا ہے۔ وینسنٹ منسٹر کہتے ہیں کہ ابھی ہم ان دونوں عناصر کے بارے میں زیادہ تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ جانیں کہ ان کا وائرس پر کیا اثر پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے انسانی جسم سے باہر اتنی دیر تک زندہ رہنے کی صلاحیت کی وجہ سے ہاتھ دھونے اور سرفیسز کو صاف کرنے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

چینی حکام نے جان لیوا کرونا وائرس کے باعث مرنے والوں کو خراج تحسین پیش

چینی حکام نے جان لیوا کرونا وائرس کے باعث مرنے والوں کو خراج تحسین پیش

بیجنگ: چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے سب سے پہلے چین میں تباہی مچائی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے