شمالی کوریا کی جانب سے تازہ میزائل تجربات کو حیرت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے

شمالی کوریا کی جانب سے تازہ میزائل تجربات کو حیرت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے

 کوریا: جنوبی کوریا کے فوجی حکام نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ میزائل کو آبدوز سے فائر کیا گیا یا اس کے لیے کسی اور چیز کا استعمال کیا گیا

اس وقت دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے مقابلے کے لیے کوششیں جاری ہیں، ایسے میں شمالی کوریا کی جانب سے تازہ میزائل تجربات کو حیرت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔
شمالی کوریا نے گزشتہ برس اکتوبر میں بھی کم فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنانے والے 2 میزائلوں کا تجربہ کیا تھا، مذکورہ دونوں میزائلوں نے 370 کلومیٹر کا فاصلہ 90 کلومیٹر کی بلندی کو چھوتے ہوئے طے کیا تھا۔
شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپریل میں پیانگ یانگ میں سپریم پیپلز اسمبلی کا اجلاس منعقد کرے گا جس پر تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دورون ملک کے تقریباً 700 رہنماؤں کو ایک جگہ پر اکٹھا کیا جائے گا۔
شمالی کوریا کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ این کے نیوز کی رچیل مینیونگ لی نے رواں ہفتے ٹوئٹ میں کہا تھا اگر وہ کامیاب ہوئے تو یہ کورونا وائرس کی صورتحال کو سنبھالنے کے لیے [شمالی کوریا کے] اعتماد کا حتمی مظاہرہ ہوگا۔
امریکا اور شمالی کے مابین جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق کشیدگی ہے۔
سویڈین میں امریکا سے ہونے والے مذاکرات کو شمالی کوریا ادھورا چھوڑ کر چلا گیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ‘یہ مایوس کن تھے کیونکہ اس میں واشنگٹن کی جانب سے نئے اور بہتر حل فراہم نہیں کیے گئے تھے’۔
پیانگ یانگ پر اس کے جوپری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل پروگرامز کی وجہ سے کئی عالمی پابندیاں عائد ہیں جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ امریکی قبضے سے بچاؤ کے لیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

چینی جاسوسی، حساس اداروں کے اہلکاروں کی بھرتیاں اور دنیا بھر میں اپنا اثر و رسوخ

چینی جاسوسی، حساس اداروں کے اہلکاروں کی بھرتیاں اور دنیا بھر میں اپنا اثر و رسوخ

چین : برطانوی حساس ادارے ایم آئی سکس کے ایک سابق جاسوس کی مدد سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے