عدالتوں کو بند نہ کرنے کے بجائے ہر سطح پر کھلا رکھنے کا فیصلہ

عدالتوں کو بند نہ کرنے کے بجائے ہر سطح پر کھلا رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں این جے پی ایم سی کا اجلاس ہوا، جس میں لوگوں پر زور دیا گیا کہ غیرضروری عدالتی حدود میں نہ آئیں

صحت اور صفائی کے اصولوں کو یقینی بنایا جائے گا اور انہیں اپنایا جائے گا۔

اس کے علاوہ ضلعی عدالتیں بھی فوری طور پر معاملات کی سماعت کرکے کام کو کم کریں گی اور عام عوام کے داخلے کو کم کرنے سمیت عدالتیں احاطے میں داخل ہونے والے تمام افراد کے اسکریننگ ٹیسٹ کو یقینی بنائیں گی۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا گیا کہ کسی بھی فریق کے خلاف عدالتوں میں طے شدہ بغیر استغاثہ یا سابق حکم وغیرہ جیسا منفی حکم نہیں جاری کیا جائے گا۔
این کے پی ایم سی کے اجلاس میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ تمام قیدیوں کی ان کے اہل خانہ سے ملاقات کے حق سے منع کیے بغیر ان کیکورونا وائرس/ انفیکشن کے خطرے سے حفاظت یقینی بنائی جائے۔
تاہم یہ بھی کہا گیا کہ جیل انتظامیہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائی گئی اور اس طرح کی ملاقاتوں کے لیے طریقہ کار طے کرے گی۔
کورونا وائرس سے باہر سے جیل کے قیدیوں میں آنے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور کہا گیا کہ اس تناظر میں جیل آنے والے افراد کا مکمل جائزہ اور اسکریننگ کی جانی چاہیے تاکہ قیدیوں کے لیے انفیکشن کے خطرے کو دور کیا جائے، تاہم اگر کوئی مریض متاثر پایا جاتا ہے تو اسے جیل کی حدود میں ہی قرنطینہ کیا جائے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ گھبرانے کی وجہ سے عدالتی نظام پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اسے ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
این جے پی ایم سی نے متفقہ طور پر سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ تمام ایس او پیز کو اپنایا اور یہ تمام عدالتوں پر لاگو ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں

بحرین ائیرلائنز نے بھی پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا

بحرین ائیرلائنز نے بھی پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا

بحرین: سی اے اے کی جانب سے پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے