وائپس، پریپ پیڈز اور اسپرے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں

وائپس، پریپ پیڈز اور اسپرے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں

نیویارک: مشکل حالات میں ہنگامی تدابیر کے ماہرین نے اپنے تجربات کی بنا پر کہا ہے کہ اگرچہ صابن سے ہاتھ دھونے سے کورونا وائرس کا خطرہ بہت کم ہوجاتا ہے

میز، کرسی اور فون وغیرہ کو صابن سے نہیں دھویا جاسکتا۔ اس کے لیے انہوں نے ہاتھ دھونے کے لیے مائع صابن کی بوتل رکھنے، بے بی وائپس، اسپرے اور ہسپتالوں میں استعمال ہونے والے الکحل سے بھرے پریپ پیڈز کو انتہائی موزوں قرار دیا ہے۔
سائنسی طور پر یہ تمام اشیا ہر سطح سے کورونا وائرس کو صاف کرسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان اشیا کو ایک جگہ جمع کرکے ’ایمرجنسی کٹ‘ تیار کرکے اپنے پاس رکھی جاسکتی ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ ایک عرصے تک قدرتی آفات اور حادثات سے بچاؤ کے سائنسی طریقوں پر غور کرتے رہے ہیں اور برسوں کے غور کے بعد چار کم خرچ اشیا کورونا وائرس سے بچاسکتی ہیں۔

مائع وائپس

بے بی وائپس صرف نومولود بچوں کو ہی نہیں آپ کو بھی کئی چراثیم سے بچاسکتی ہیں۔ میڈیکل اسٹور سے ایسے وائپس خریدیں جن میں الکحل کی شرح 60 فیصد ہو اور اگر نہ مل سکے تو اسی نوعیت والے الکحل مائع کو ہاتھوں پر رگڑ کر بے بی وائپس سے صاف کردیں۔

جب بھی عوامی اجتماع، بس، یا ریلوے سے گھر آئیں تو فوری طور پر بے بی وائپس سے ہاتھ اور بازوؤں کو اچھی طرح صاف کرلیں۔ اسی طرح اسمارٹ فون کو بھی وائپس سے صاف کرکے جراثیم اور وائرس سے پاک بنایا جاسکتا ہے۔

ڈس انفیکشن اسپرے

مارکیٹ میں ایسے جراثیم کش اسپرے موجود ہیں جنہیں کسی بھی سطح پر اسپرے کرکے اسے کورونا وائرس سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ چھینکنے کی صورت میں بار بار ہاتھ دھوئیں اور چہرہ بھی اچھی طرح دھونے کی عادت بنائیں۔ اسی طرح ہینڈ سینیٹائزر بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

الکحل والے پریپ پیڈز

طبی مقاصد کے لیے چھوٹے چھوٹے پریپ پیڈز استعمال ہوتے ہیں جن میں الکحل شامل ہوتا ہے۔ ان میں کلوروکس کمپنی کے ڈس انفیکشن وائپس مشہور ہیں۔ ان کے استعمال سے کورونا وائرس سے خود کو پاک کیا جاسکتا ہے۔
مائع صابن کی چھوٹی بوتل ساتھ رکھیں اور اس کی مدد سے بار بار ہاتھ دھوتے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں

حیاتیاتی ربڑ جسے بالخصوص گھٹنوں کی درمیانی ہڈیوں میں رکھا جاسکتا ہے

حیاتیاتی ربڑ جسے بالخصوص گھٹنوں کی درمیانی ہڈیوں میں رکھا جاسکتا ہے

سویڈن: چامرز یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک حیاتیاتی ربڑ بنایا ہے جسے بالخصوص گھٹنوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے