میکسیکو کی امریکہ کو وارننگ

میکسیکو نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ سرحد پر دیوار بنانے کے لیے اگر اس کی برآمدات پر اضافی ٹیکس عائد کیا گيا تو وہ بھی اسی طرح کی جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔

میکسیکو کے وزیر خارجہ لوئس وائڈگارے کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت بھی امریکہ کی ان کمپنیوں کی منتخب اشیا پر ٹیکس نافذ کر سکتی ہے جو میکسیکو کو برآمد کرنے پر مجبور ہیں۔

جمعے کو ایک ریڈیو انٹرویو میں میکسکو کے وزیر خارجہ نے کہا ‘میکسکو آزادانہ تجارت میں یقین رکھتا ہے لیکن اگر امریکہ دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز کے لیے مکسیکو کی درآمدات پر اضافی ٹیکس نافذ کرے گا تو پھر ہمیں جواب دینا ہی پڑے گا۔’

انھوں نے مزید کہا کہ میسیکو اسے بیان بازی کی حد تک نہیں بلکہ ایک حقیقی چیلنچ کے طور پر سامنا کرے گا کیونکہ بیان بازیاں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق میکسکو نے آئیوا، ٹیکسس اور وسکانسن جیسی بعض ایسی امریکی ریاستوں کی نشاندہی پہلے ہی سے کر رکھی ہے جنھیں جوابی کارروائی کے تحت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ میکسیکو کے ساتھ ملحق سرحد پر دیوار کی تعمیر متوقع وقت سے بہت پہلے ہی شروع کر دی جائے گی۔

کنزویٹو پولیٹکل ایکشن کانگریس کی تقریب کی سالانہ تقریب سے خطاب میں انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ امریکی شہریوں کو ہمیشہ ترجیح گے اور سرحد پر دیوار، ‘ایک عظیم دیوار’ بنائی جائے گی۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے دیوار کی ڈیزائن سے متعلق تجاویز کو وہ آئندہ ماہ سے لینا شروع کر دےگا۔

سرحدی حفاظت سے متعلق امریکی سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ کمپنیوں سے اس دیوار کی تعمیر کے ڈیزائن سے متعلق تجاویز مارچ کے پہلے ہفتے سے لینا شروع کر ے گی۔

گذشتہ روز صدر ٹرمپ نے ریاست میری لینڈ میں جماعت کے سالانہ اجلاس سے خطاب کیا تھا جہاں شرکا نے دوارن خظاب ‘یو ایس اے، یو ایس اے’ کے نعرے لگا رہے تھے۔

اپنے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ‘ہم دیوار بنا رہے ہیں۔’ انھوں نے کہا: ‘درحقیقت ہم اسے جلد شروع کر رہے ہیں۔ طے شدہ وقت سے پہلے، وقت سے بہت بہت پہلے۔’

ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا دیوار کے لیے رقم میکسکو سے لی جائے گی۔ دیوار کی تعمیر کی قیمت 21 ارب ڈالر سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

انھوں نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ میکسیکو جو اشیا امریکہ درآمد کی جاتی ہیں اس پر دو فیصد کا اضافی ٹیکس نافذ کیا جائے گا اور اس طرح اس دیوار کی رقم کا بند و بست کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

یورپی پارلیمنٹ کا بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ

یورپی پارلیمنٹ کا بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ

یورپی پارلیمنٹ میں 12 سال بعد مسئلہ کشمیر پر بحث کی گئی جس میں ارکان نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے