آبادیوں کے قریب قرنطینہ مراکز قائم کرنے کے خلاف سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ

آبادیوں کے قریب قرنطینہ مراکز قائم کرنے کے خلاف سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ

بلوچستان: معمولی بیماریوں کے لیے مناسب علاج معالجے کا موئثر انتظام نہیں وہاں کورونا جیسی بیماری سے بچاﺅ کے انتظامات کس نوعیت کے ہوں گے ان کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے

مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ ایک ایسے علاقے میں جہاں علاج معالجے کی سہولیات پہلے سے تسلی بخش نہیں وہاں اس کے پھیلنے سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوسکتا ہے۔
سول سوسائٹی کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ میاں غنڈی میں عام شہریوں نے بھی قرب و جوار کے علاقوں میں قرنطینہ مراکز اور آئسولیشن وارڈ کے قیام کے خلاف احتجاج کیا۔
یہ احتجاج ہزار گنجی میں قرنطینہ مرکز اور شیخ زید ہسپتال میں قائم آئسولیشن وارڈ کے خلاف کیا گیا۔
مظاہرین نے ان مراکز کے خلاف کوئٹہ کراچی ہائی وے کو چند گھنٹوں کے لیے بند کیے رکھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ان مراکز کو ان علاقوں سے ہٹاکر کسی ایسے علاقے میں منتقل کیا جائے جہاں آبادی کم ہوں۔ ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے قرنطینہ مراکز بلوچستان میں قائم کرنے کی بجائے ان کے صوبوں میں قائم کیے جائیں۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان نے دستیاب وسائل سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے پہلے بڑے پیمانے پر موثر اقدامات کیے جس کی ایک واضح مثال تفتان میں بڑے قرنطینہ مرکز کا قی م ہے۔
انھوں نے کہا کہ جہاں تک دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بلوچستان میں رکھنے کی بجائے ان کے صوبوں میں منتقل کرنے کی مطالبے کی بات ہے تو تفتان میں قرنطینہ کا مدت پوری ہونے کے بعد ان کو ان کے صوبوں میں منتقل کیا جائے گا۔
صوبہ بلوچستان کے ہسپتالوں کا عملہ کورونا کے مریضوں کے علاج کے حوالے سے تشویش کا شکار ہے۔ شیخ زید ہسپتال جہاں کورونا کے مریضوں کے لیے آئیسولیشن سینٹر قائم کیا گیا ہے کے عملے کے بعض ارکان نے کام کرنے سے انکار کیا تھا جبکہ دیگر مراکز کا عملہ بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
شیخ زید کے عملے کو باقاعدہ طور پر نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے تاہم ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر منظور نے اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی نے کام کرنے سے انکار نہیں کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں مطلوبہ حفاظتی انتظامات ہیں۔ یہ نوٹس ویسے تنبیہ کے طور پر دیا گیا تاکہ لوگ اپنی ڈیوٹی میں کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہ کریں۔
جبکہ بلوچستان میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس کے لیے کورونا وائرس سے بچانے کے لیے جو موئثر انتظامات ہونے چائیے تھے وہ ابھی تک نہیں کیئے گئے ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر حنیف لونی نے بی بی سی کو بتایا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے شہروں کے اندر یا شہروں کے قریب قرنطینہ مرکز یا آئسو لیشن سینٹر قائم کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔
خود ڈاکٹروں یا دیگر عملے کے بچاﺅ کے لیے مطلوبہ تعداد میں حفاظتی کٹس بھی نہیں ہیں۔نہ موثر ماسک اور دستانے ہیں اور نہ ہی ہاتھ دھونے کا مناسب انتظام ہے

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پاک ایران سرحد پر آمد ورفت معطل

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پاک ایران سرحد پر آمد ورفت معطل

کوئٹہ: بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے