مرشد لعل نے اپنے سیہوانیوں ہی سے کام لیا

مزار کے ایک رضاکار ندیم نے کہا کہ ‘جس جگہ دھماک ڈالا جاتا ہے اس جگہ پہلے ایک دو منٹ آگ تھی۔ یہ آگ عام نہیں بلکہ پریشر والی آگ تھی اور اس کے بعد دھماکہ ہوا۔’

انھوں نے مزید بتایا کہ ‘ہم نے پہلے صرف ٹی وی پر ہی دیکھا ہے اور ہمارا دل نہیں مان رہا تھا کہ سرکار کے بم دھماکہ ہوا ہے۔ دھماکے کے بعد انسانی گوشت کے چیتھڑے اڑنے لگے اور لوگ ہمارے اوپر آ کر گرے۔ لوگوں کے ہجوم سے نکلتے ہوئے جب ہم درگاہ پر پہنچے تو ایک دو زخمیوں کو پکڑا لیکن ہمارا اتنا جگر نہیں تھا اور ہمارا دل نہیں کھڑا ہو سکا۔ ہم باہر آ گئے۔’

ندیم کے مطابق ‘یہ تو سیہوانیوں کا ہی کمال ہے کہ انھوں نے لوگوں کی مدد کی اور مرشد لعل نے اپنے سہوانیوں ہی سے کام لیا۔’

دھماکے کے بعد کے مناظر اور زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کے حوالے سے ایک اور رضاکار راجہ سومرو نے بتایا ‘سیہوانیوں ہی نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔ سیہون کے لوگ آ گئے اور چنگچیوں کے ذریعے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں مدد کی۔’

انھوں نے بتایا کہ مزار کے خدمت گزار اور سیہوانیوں نے زخمیوں اور لاشوں کو چنگچیوں میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا۔ ‘نہ کوئی ایمبولینس تھی اور نہ ہی کوئی سرکاری عملہ آیا۔’

انھوں نے بتایا کہ سیہوانیوں نے ہر لوگوں کی ہر ممکن مدد کی۔ ‘مزار پر آئے ہوئے پردیسیوں کی مدد کی اور جن کو مالی امداد کی ضرورت تھی ان کو مالی مدد کی اور جنھوں نے کہا کہ ان کے جانے کے لیے سواری نہیں تو ان کو گاڑیاں بھی کر کے دیں۔’

جمعرات کو سینکڑوں زائرین لعل شہباز قلندر کے مزار پر پہنچے اور حکام نے شہر میں داخلے سے لے کر مزار کے اندر داخل ہونے تک سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔

رضاکار ندیم کا کہنا ہے کہ ‘جمعرات کے دھمال میں آنے والے لوگوں کو نہ زیادہ کہا جا سکتا ہے نہ ہی کم۔ پہلے جو زائرین آتے تھے ان کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ نارمل زآئرین تھے۔ آج جو زائرین دھمال کے لیے آئے ہیں وہ ہر جمعرات کو آنے والے نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سرکار کے غم میں شریک ہونے آئے ہیں جیسے جوالا مکھی ہو۔

ندیم کہتے ہیں ‘فرق کوئی نہیں ہے۔ دھماکے سے پہلے بھی جمعرات بھری مراد تھی اور آج بھی جمعرات بھری مراد ہے۔’

درگاہ کو اگرچہ دھماکے کے اگلے روز ہی صاف کر دیا گیا تھا تاہم اس کے فرش پر جس جگہ دھماکہ ہوا اس کے نشانات اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

کراچی سے آئی ہوئی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ڈر بالکل نہیں ہے اور اگر لعل کی درگاہ پر شہادت ملے گی تو اچھا لگے گا۔

‘مولا کا نام نہ تو اذل سے ختم ہوا اور نہ ہی ختم ہو گا۔ لوگ (دھماکہ کرنے والے) مولا کے نام کو ختم کرنا چاہتے تھے وہ نہیں ہو گا۔’

میر پور ماتھیلو سے آئے ایک زائر نے کہا کہ ‘میں ادھر سکون کے لیے آتا ہوتا ہوں۔ مرشد کی درگاہ پر آتا ہوں تو سکون ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

کراچی: قانونی مسودے کی سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعد کراچی کے تمام ساحل سندھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے