ٹیکسی سروس اوبرکا ملازمین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

اوبرمیں کام کرنے والی ایک خاتون نے شکایت کی تھی کہ  وہ اوبر میں کام کرتی تھیں تو انہیں کئی بار جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اوبر کے سربراہ نے کہا کہ سوزین فاؤلر نامی خاتون نے جو تفصیلات بیان کی ہیں وہ انتہائی افسوس ناک ہیں اور ان تمام اصولوں اوراقدار کے منافی ہیں جن پر کمپنی یقین اورعمل کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ ’جو کوئی بھی اس طرح سوچتا ہے یا ایسا کام کرتا ہے اسے ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔

اوبر میں کام کرنے والی سابق انجینيئر سوزین فاؤلر نے ایک بلاگ میں لکھا تھا کہ نوکری کے ابتدائی دنوں میں ہی ان کے منیجر نے مجھ سے نا مناسب خواہش کا اظہار کیا تھا جب میں نے اس کی شکایت کی تو مجھے بتایا گیا کہ کوئی مزید کارروائی نہیں کی جائے گی کیونکہ منیجر کی یہ ’پہلی غلطی‘ ہے۔

اوبر کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ الزمات پہلی مرتبہ ان کے علم میں آئے ہیں اور اس کی فوری طور پر تفتیش کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق اوبر میں اس طرح کے رویے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

یورپی پارلیمنٹ کا بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ

یورپی پارلیمنٹ کا بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ

یورپی پارلیمنٹ میں 12 سال بعد مسئلہ کشمیر پر بحث کی گئی جس میں ارکان نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے