سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت مکمل

شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ جمعرات کو سماعت میں جواب الجواب مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ کب سنایا جائے گا۔

ان کے مطابق عدالت نے سماعت مکمل ہونے سے قبل اپنے ریمارکس میں کہا کہ پاناما لیکس میں دی گئی دستاویزات اتنی زیادہ ہیں کہ انھیں پڑھنے اور رائے قائم کرنے میں وقت لگے گا۔

عدالت کے مطابق فریقین نے 26000 کے قریب دستاویزات جمع کروائی ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق جواب الجواب میں عدالت نے کہا کہ ان دستاویزات کی صداقت کے بارے میں دیکھیں تو 99 اعشاریہ نو فیصد ردی کی ٹوکری کے لیے ہیں۔

جمعرات کو سماعت کے دوران نعیم بخاری، شیخ رشید اور توفیق آصف نے دلائل دیے۔

جمعرات کو اس معاملے کی آخری سماعت کے موقع پر درخواست کنندگان کے وکلا نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی پینچ کے سامنے اپنے دلائل مکمل کیے۔

گذشتہ سال پاناما پیپرز کے نام سے شائع ہونے والی دستاویز میں پاکستانی وزیراعظم کے اہل خانہ کا نام سامنے آتے ہی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے شریف خاندان پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے انھیں اقتدار سے الگ کرنے کے لیے مہم کا آغاز کیا تھا۔

اسی سلسلے میں انہوں نے سپریم کورٹ میں وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ 26 صفحات پر مشتمل اس درخواست میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے تینوں بچوں سمیت کل دس لوگوں کو مدعاعلیہان قرار دیا گیا تھا۔

 

یہ بھی پڑھیں

ڈیڈ لاک سے بچاؤ کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں

ڈیڈ لاک سے بچاؤ کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں

اسلام آباد: عمران خان کا حوالہ دے کر حکومتی ترجمان نے کہا کہ ’مولانا فضل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے