بھارت میں جاری ظلم و ستم کے خلاف ہر شخص اپنی طور پر آواز بلند کررہا ہے

بھارت میں جاری ظلم و ستم کے خلاف ہر شخص اپنی طور پر آواز بلند کررہا ہے

لاہور: یاسر حسین کی آئی ڈی سے شیئر ہونے والی نظم نوجوان شاعر علی زریون نے لکھی اور پھر اسے خود پڑھا شاعر نے اپنی نظم میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو بخوبی بیان کیا

نوجوان شاعر نے دہلی فسادات پر نظم کا آغاز کچھ سوالوں سے کیا:

دل کی دلی کو کس کی نظر لگ گئی؟
کون راون میرے شہر میں آگئے؟
رام کے نام پر کیسا آتنک ہے؟
گیروی آگ والے بدن کھا گئے
آج گاندھی کی نظریں نہیں اُٹھ رہیں
آج نہرو کا چہرہ پریشان ہے
راکشس اپنی سرکار میں مست ہے
لوگ دنگو ں کی شدت سے گھبرا گئے ہیں
مجھ سے سیتا نے سوگند کھا کر کہا
یہ فسادی ہیں یہ رام والے نہیں
کتنے گھر اِن کے ہاتھوں کھڈل بن گئے
کتنے پھول اِن کی دہشت سے گُھملا گئے
وہ زبانیں کہ جو آج خاموش ہیں
مت یہ سمجھیں سُرکشت ہیں نِردوش ہیں
آج بولو نہ مگر مرو گے سب ہی
پھر نہ کہنا شکنجے میں کیوں آگئے
لاٹھیاں کھانے والوں سلامت رہو
گولیاں کھانے والوں سلامی تمہیں
تُم نے اپنے لہو سے لکھ دیا
کون ظالم ہے تُم سب کو سمجھا گئے
دل کی دلی کو کس کی نظر لگ گئی؟
کون راون میرے شہر میں آگئے؟

یاسر حسین نے خوبصورت انداز سے نظم پڑھنے پر نوجوان شاعر کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
گزشتہ کئی روز سے نئی دہلی میں متنازع شہریت آرڈیننس کے خلاف مظاہرہ جاری تھا، رواں ہفتے ہندو انتہا پسندوں نے پولیس کی سرپرستی میں مظاہرین پر حملہ کیا جس کے بعد مسلمانوں کے گھر نذر آتش کیے گئے جبکہ مسجد اور مزار کو بھی شہید کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

لاہور سمیت پنجاب بھر میں لاک ڈاؤن میں 14 اپریل تک توسیع کر دی گئی

لاہور سمیت پنجاب بھر میں لاک ڈاؤن میں 14 اپریل تک توسیع کر دی گئی

لاہور:محکمہ داخلہ پنجاب نے لاک ڈاؤن میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ اس سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے