مہ جبین قزلباش کو دو ماہ پہلے یکم جنوری کو دل کی تکلیف ہوئی

مہ جبین قزلباش کو دو ماہ پہلے یکم جنوری کو دل کی تکلیف ہوئی

پاکستان میں بلبل سرحد کے نام سے پہچانے جانے والی پشتو اردو اور فارسی زبان کی گلوکارہ مہ جبین قزلباش کی آواز ایک عرصے تک موسیقی کی دنیا پر حکمرانی کرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی ہے

مہ جبین قزلباش کچھ عرصے سے فن کی دنیا میں زیادہ متحرک نہیں تھیں لیکن وہ ریاض باقاعدگی سے کیا کرتی تھیں۔ مہ جبین اپنے اس نام کی طرح خوبصورت تھیں اور وہ اس دور میں ٹیلیویژن اور ریڈیو پر جلوہ گر ہوئیں جب خیبر پختونخوا میں خواتین کا اس طرح باہر نکلنا بھی مشکل تھا۔ مہ جبین نے کس طرح اس میدان میں داخل ہوئیں اور پھر کیسے وہ اس مقام تک پہنچیں یہ تو شاید وہ خود ہی جانتی ہوں گی لیکن فن موسیقی میں انھوں نے جو کمال حاصل کیا وہ یہاں کم ہی خواتین کے حصے میں آیا ہے ۔
ان کا اصل نام ثریا خانم تھا اور مہ جبین ان کا وہ نام تھا جو ریڈیو اور ٹیلیویژن کا نام تھا جو ماضی میں مختلف وجوہات کی بنا پر ایک روایت بن چکی تھی۔
مہ جبین قزلباش کے والد ایران سے پاکستان آئے تھے اور پھر یہاں انھوں نے دوسری شادی کی تھی۔ ابتدا میں وہ اندرون پشاور شہر کے کوچہ رسالدار میں مقیم تھے۔
ریڈیو پاکستان سے تعلق رکھنے والے پروڈیوسر اور تحقیق کار لئیق زادہ لئیق نے خیبر پختونخوا کے گلوکاروں اور فنکاروں پر تین کتابیں لکھی ہیں جن میں مہ جبین قزلباش کے بارے میں انھوں نے مکمل تفصیل فراہم کی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ مہ جبین کو اپنے فن سے جنون کی حد تک محبت تھی اور وہ میڈم نورجہاں کو اپنا آئیڈیل سمجھتی تھیں اور انھی کے نغمے وہ زیادہ تر گایا کرتی تھیں۔
مہ جبین قزلباش نے ایک پشتو فلم ‘شیرعالم میمونے’ میں کام کیا تھا اور اس فلم میں ان کے ہیرو ایمل خان تھے اور یہ دونوں کردار بے حد پسند کیے گئے اور دونوں نے پھر شادی کر لی۔ مہ جبین قزلباش کے تین بچے ہیں۔
ہ جبین قزلباش نے متعدد یادگار گانے ٹیلیویژن اور ریڈیو پر گائے جن میں چند ایک انتہائی مقبول ہوئے۔
‘سپینے سپوگمئی وایہ آشنا بہ چرتہ وی ناں ، گونگے شے ولے نہ وایے حالونہ’ اس لوک گانے کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ ‘سفید چمکتے چاند بتاؤ میرا آشنا کہاں ہوگا ، اب خاموش کیوں ہو گئے، اب مجھے ان کا حال کیوں نہیں بتاتے’
یہ ایسا یادگار لوک گیت ہے جو شاید ان کا اپنا پہلا گانا تھا جو آج بھی اتنا ہی مقبول ہے جتنا مقبول یہ اپنے دور میں ہوا تھا۔ یہ گیت رضا ممندی نے لکھا تھا اور اس میں بنیادی طور پر چاند سے گفتگو ہے ۔
مہ جبین قزلباش نے پشتو کے علاوہ فارسی، اردو، پنجابی اور ہندکو زبان میں بھی گانے گائے اور فن کی دنیا میں ایسا تاثر پایا جاتا ہے کہ مہ جبین قزلباش خیبر پختونخوا سے پہلی ایسی گلوکارہ تھیں جن کے اردو گانوں کو بھی قومی سطح پر تسلیم کیا گیا اور سراہا بھی گیا۔ مہ جبین کا دیگر زبانوں میں تلفظ اور ان کی ادائیگی ایسی تھی کہ یہ تاثر نہیں ملتا تھا کہ وہ کسی دوسری زبان میں گا رہی ہیں۔
مہ جبین قزلباش کچھ عرصے کے لیے موسیقی سے علیحدہ ہو گئی تھیں یا ایسا کہیے کہ وہ زیادہ نظر نہیں آتی تھیں اور اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی تھی کہ وہ اپنے بچوں کی طرف بھرپور توجہ دینا چاہتی ہیں ۔
پشتو کے نامور موسیقار ماسٹر نذیر گل نےبتایا کہ وہ مہ جبین قزلباش کے ساتھ 1975 سے منسلک رہے اور ان کے ساتھ انھوں نے مختلف ممالک کے دورے بھی کیے ۔ انھوں نے کہا کہ مہ جبین کے لیے متعدد گانوں کی موسیقی انھوں نے ترتیب دی تھی۔
یہ کمال مہ جبین کی آواز میں تھا کہ انھوں نے اگر غزل گائی تو کمال کیا اور اگر ٹپہ گایا تو اس میں بھی میلوڈی اور درد پایا جاتا تھا اور یہ ہنر کسی کسی کی آواز میں پایا جاتا ہے

یہ بھی پڑھیں

رویت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، فواد چوہدری معاملے میں نہ الجھائیں

رویت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، فواد چوہدری معاملے میں نہ الجھائیں

پشاور: اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے