عمران خان سے پہلے نواز شریف بھی سلیکٹڈ وزیر اعظم تھے

عمران خان سے پہلے نواز شریف بھی سلیکٹڈ وزیر اعظم تھے

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے بیان کو پسند نہیں کیا اور پی پی پی کی اعلیٰ قیادت تک اپنی ناراضی کا پیغام پہنچا دیا ہے

بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو طویل غیر حاضری پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرح مسلم لیگ (ن) بھی پارلیمنٹ کواہمیت نہیں دیتی۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ(ن) نے کہا کہ قیادت کی جانب سے ’ناراضی‘ کا پیغام پہنچانے کے بعد امید ہے کہ بلاول بھٹو کی جانب سے مزید کوئی ’پھلجڑی‘ نہیں چھوڑی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری جماعت کی قیادت نے ہمیں سختی سے اس پر ردِ عمل نہ دینے کی ہدایت کی ہے کیوں کہ ہمیں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے‘۔
بلاول بھٹو زرداری کو مستقبل کے بارے میں بات کرنی چاہیئے کیوں کہ دوبارہ الزام تراشیوں میں پڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پی پی پی اور دیگر جماعتوں کی تاریخ سب کے سامنے ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر توجہ دے جس نے قیمتوں میں اضافے، مہنگائی، بے روزگاری سے عوام کی زندگی مشکل بنادی ہے اور ایسی کوئی چیز نہ کریں جس سے اپوزیشن کے مقصد کو نقصان پہنچے‘۔
مسلم لیگ (ن) کے کچھ اراکین کی رائے ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو پی پی پی میں ان کے قریب کچھ رہنماؤں نے مشورہ دیا ہے کہ اگر پنجاب میں پارٹی کو تجدید دینی ہے تو شریفوں پر تنقید کرنی ہوگی۔
’چونکہ اس وقت دونوں جماعتوں کو کسی خاص مقصد یعنی ان ہاؤس تبدیلی کے لیے تعاون کرنے کی ضرورت نہیں اس لیے بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے توپوں کا رخ عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ مسلم لیگ(ن) کی طرف کردیا۔

یہ بھی پڑھیں

ماڈل عظمیٰ خان پر تشدد کا مقدمہ درج

لاہور : اداکارہ عظمیٰ خان اور ان کی بہن ہما خان کو تشدد کا نشانہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے