حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے اقدام کے خلاف درخواست دائر

حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے اقدام کے خلاف درخواست دائر

اسلام آباد: درخواست میں کہا گیا کہ 1948 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے منظور شدہ یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس کے مطابق ’آزادی اظہار رائے ہر ایک کا حق ہے

حق میں بغیر کسی مداخلت کے رائے رکھنے اور سرحدوں سے قطع نظر کسی بھی میڈیا کے ذریعے غیر جانبدار معلومات طلب کا وصول کرنا شامل ہے‘۔
معاشرے میں آزادانہ روابط رکھنے کی آزادی کا معیار معاشرے کی ترقی کے ساتھ جمہوریت اور معاشرے کی مضبوطی پر گہرا اثر رکھتی ہے۔
درخواست کے مطابق سیاسی تناظر میں آزادی رائے ہر قسم کے سیاسی مسائل پر بات کرنے کے لیے شہریوں کا قابلِ تنسیخ حق ہے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ ’آئین پاکستان کے شہریوں کو دفعہ 19 کے تحت بنیادی اؔٓزادی رائے کی ضمانت دیتا ہے اور صرف ’قانون کے تحت نافذ‘ پابندیوں کی اجازت دیتا ہے۔
درخواست میں دیگر ممالک کے سوشل میڈیا قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی قبل ذکر جمہوری ملک میں سخت میڈیا پالیسی نافذ نہیں۔
کسی ملک میں شاید ہی کوئی ایسا جامع قانون موجود ہے جو سوشل میڈیا کے تمام پہلوؤں کو ریگولیٹ کرتا ہو تاہم صنعت میں سرکاری عناصر کے حوالے سے قواعد و ضوابط موجود ہیں۔
سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کی غرض سے 28 جنوری 2020 کو وفاقی کابینہ نے سیٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز 2020 کی منظوری دی۔
پٹیشن میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے منظور کردہ قواعد معلومات حاصل کرنے کے بنیادی حق کے خلاف ہیں اور آئین میں شہریوں کی بنیادی حقوق کی دی گئی ضمانت سے بھی متصادم ہے۔
اس قواعد میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنا دفتر بالخصوص ڈیٹا بیس سرورز پاکستان میں قائم کرنے اور رجسٹر کروانے کی شرط رکھی گئی ہے، ان قواعد کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا کو حکومت کے بلاواسطہ کنٹرول کے ذریعے قابو کرنا ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ یہ قواعد آئین پاکستان، برقی جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 اور پاکستان ٹیلی کمیونکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔
عدالت سے درخواست کی گئی کہ یہ قواعد چونکہ آئین کی دفعہ 19،اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے منظور کردہ انٹرنیشنل کنوینشن برائے سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس اور یورپی کنویشن برائے انسانی حقوق کی دفعہ 10 اور اس کے 5 پروٹوکول کے خلاف ہیں اس لیے انہیں کالعدم قرا دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

عمران خان اور جہانگیر ترین کے تعلقات ٹھیک ہیں

عمران خان اور جہانگیر ترین کے تعلقات ٹھیک ہیں

راولپنڈی: وزیرریلوے شیخ رشید احمد نے راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے