امریکہ کا نیٹو کے ساتھ تعاون ‘اٹل’ ہے

امریکی نائب صدر مائیک پینس نے میونخ میں ہونے والی سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا نیٹو کے ساتھ تعاون ‘اٹل’ رہے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے خارجہ پالیسی کے بارے میں پہلے جامع بیان میں پینس نے کہا کہ امریکہ ‘آج اور ہر دن یورپ کے ساتھ کھڑا رہے گا۔’

تاہم انھوں نے یورپی ملکوں کو بتایا کہ وہ مشترکہ دفاع کا پورا خرچ برداشت نہیں کر رہے۔

انھوں نے کہا کہ صرف پانچ ملکوں نے اپنی مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد حصہ دفاع پر خرچ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

تاہم انھوں نے کانفرنس میں شامل یورپی ملکوں کے رہنماؤں کو بتایا کہ وہ دفاع پر ‘اپنے حصے کا خرچ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ یہ ناکامی ہمارے اتحاد کی بنیاد کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

امریکہ کے علاوہ صرف چار دوسرے ملک اپنے دفاع پر مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد سے زائد خرچ کرتے ہیں۔

مائیک پینس نے کہا: ‘اب ‘ڈُو مور’ کا وقت آ گیا ہے۔’

صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے خبردار کیا تھا کہ امریکہ نیٹو میں شامل اتحادی ملکوں کا دفاع کرنے کا وعدہ نہیں نبھائے گا کیوں کہ وہ زیادہ مالی تعاون نہیں کر رہے۔

مائیک پینس نے کہا کہ امریکہ ‘روس کو جواب دہ سمجھتا رہے گا، حالانکہ ہم نئے مشترکہ موقف کی تلاش میں ہیں، اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں، صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔’

امریکی نائب صدر نے کہا کہ روس یوکرین کے بارے میں مِنسک امن معاہدے کی لازمی طور پر پاسداری کرے، اور یوکرین کے مشرق میں اپنی فوجی کارروائیوں میں کمی لائے۔’

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب امریکہ میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اور روس کے درمیان تعلقات کے بارے میں تنازع جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں

یورپی پارلیمنٹ کا بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ

یورپی پارلیمنٹ کا بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ

یورپی پارلیمنٹ میں 12 سال بعد مسئلہ کشمیر پر بحث کی گئی جس میں ارکان نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے