ہوٹل آتشزدگی کیس میں ہوٹل انتظامیہ حادثےکی ذمہ دار قرار

کراچی کےمقامی ہوٹل میں لگنے والی آگ سے متعلق کیس میں پولیس نے چالان عدالت میں جمع کردایا ہےجس میں انکشاف ہوا ہےکہ ہوٹل میں 1994 میں فائرسیفٹی سسٹم لگایاگیاتھاجوناکارہ چکاتھا۔

پولیس کی جانب سے چالان میں ہوٹل کےسی ای اوزبیر الدین،ایم ڈی مظفر،چیف انجینئر ارشد،شفٹ انچارج پرویز،اور سیکورٹی انچارج سعد کوشامل کیا گیا ہے۔

عدالت میں جمع کیے گئے چالان میں بتایا گیاہےکہ آتشزدگی کے وقت ہوٹل کےکنٹرول روم میں صرف سی سی ٹی وی آپریٹر بیٹھاتجا،جوفائر سیفٹی سے لاعلم تھا۔

چا لان میں بتایاگیا ہےکہ ہوٹل میں اسموک سسٹم پہلی منزل پر نصب تھا۔اس کےعلاقہ ہوٹل انتظامیہ کی فراہم کی گئی سول ڈیفنس کےدستاویزات کی بھی تصدیق نہ ہوسکی۔

پولیس کےمطابق ہوٹل ملازمین نے آگ پرخودقابو پانے کی کوشش کی،لیکن ایئرکنڈیشننگ سسٹم بند نہیں کیا گیا جس کی وجہ سےدھواں عمارت میں پھیل گیا۔آتشزدگی کی اطلاع سوا تین بجےفائراسٹیشن کودی گئی۔

 

یہ بھی پڑھیں

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

کراچی: قانونی مسودے کی سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعد کراچی کے تمام ساحل سندھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے