لوک گلوکار الن فقیر کو شاندار انداز میں خراج عقیدت پیش

لوک گلوکار الن فقیر کو شاندار انداز میں خراج عقیدت پیش

کراچی: لوک فنکار کو حکومت پاکستان نے 1980 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا تھا، علاوہ ازیں انہیں موسیقی کی دنیا میں خدمات انجام دینے پر دیگر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا

الن فقیر کے گیتوں میں سندھ کی ثقافت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے، انہوں نے اپنے منفرد انداز سے موسیقی کو نئی جلاح بخشی۔ انہوں نے سندھ کے صوفی بزرگ شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار سے پاکستان ٹیلی وژن تک کا سفر کامیابی سے طے کیا۔
انہیں آج بھی لوک گلوکاری کا بے تاج بادشاہ مانا جاتا ہے، الن فقیر نے ملک کو ’’تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا‘‘ اور ’’اتنے بڑے جیون ساگر میں تو نے پاکستان دیا‘‘ جیسے لازوال نغمے بھی دیے۔
وادی مہران کے مردم خیز علاقے ضلع دادو میں 1932 کو پیدا ہونے والے الن فقیر بچپن سے ہی صوفیانہ مزاج رکھتے تھے، قدرت نے انہیں خوبصورت آوازسے نوازا، الن فقیر نے صوفیانہ کلام گا کر ملک اور بیرون ملک میں شہرت حاصل کی۔
اپنے جداگانہ اندازِ گلوکاری کی بدولت الن فقیر کو کئی ایوارڈز بھی دیے گئے۔ لوک گلوکاری کا تابندہ ستارہ چار جولائی سن دو ہزار کو ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہوگیا۔ لوک گلوکار الن فقیر کو مداحوں سے بچھڑے 19 برس بیت گئے مگر اُن کی آواز آج بھی کانوں میں رس گولتی ہے

یہ بھی پڑھیں

میڈونا نے اپنی زندگی پر بننے والی فلم خود ہی لکھنے اور خود ہی اس کی ہدایات دینے کا اعلان

میڈونا نے اپنی زندگی پر بننے والی فلم خود ہی لکھنے اور خود ہی اس کی ہدایات دینے کا اعلان

امریکا: بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق یونیورسل پکچرز نے میڈونا کی زندگی پر مبنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے