ہاتھ کے اشارے سے رنگ بکھیرتا جادوئی کینوس

مصوروں کے لیے اپنے فن اور تخیل کو وجود میں لانا ایک دقت طلب مرحلہ ہے جس میں ان کے جسم اور دماغ کی پوری توانائی صرف ہوجاتی ہے۔

لیکن کیا ہی اچھا ہو، کہ اگر مصور صرف اپنے ہاتھ کو حرکت دے، اور اس کی مطلوبہ تصویر رنگوں کے ساتھ کینوس پر بکھر جائے؟ گو کہ یہ کسی جادوئی فلم میں دکھائی جانے والی صورتحال لگتی ہے مگر مائیکرو سافٹ نے اسے حقیقت میں تبدیل کر دکھایا، آخر سائنس بھی تو جادو ہی کا دوسرا نام ہے۔

گزشتہ برس اکتوبر میں جاری کیا جانے والا مائیکرو سافٹ کا آل ان ون ونڈوز 10 ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر سرفیس اسٹوڈیو ایسی ہی جادوئی صلاحیت کا حامل ہے جو مصوروں کے تخیل کو ان کی ایک جنبش انگشت سے وجود میں لاسکتا ہے۔

ایلومینیم سے تیار کردہ اس کمپیوٹر کی اسکرین 28 انچ کی پکسل سنس ڈسپلے ٹچ اسکرین ہے جس کی موٹائی محض 12.5 ملی میٹر ہے۔

اس کے ساتھ ایک سرفیس ڈائل بھی موجود ہے جو ٹریک پیڈ کی طرح کام کرتا ہے، اور اسے اسکرین پر رکھ کر اس سے رنگوں اور تصاویر کا انتخاب یا تصویروں کی تشکیل بھی کی جاسکتی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں

پزلز بنانا صرف ایک کھیل نہیں بلکہ دماغی صلاحیت کو تیز کرنے کے لیے بہترین

پزلز بنانا صرف ایک کھیل نہیں بلکہ دماغی صلاحیت کو تیز کرنے کے لیے بہترین

وکٹوریہ کالج میں سیمیوٹک اور اینتھروپولوجی کے پروفیسر مارکل ڈانیسی کا کہنا ہے کہ خاص …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے