سپریم کورٹ کے بینچ نے جی آئی ڈٰ سی 2015 سے متعلق کیس کی سماعت

سپریم کورٹ کے بینچ نے جی آئی ڈٰ سی 2015 سے متعلق کیس کی سماعت

اسلام آباد: سوال کیا جن کے لیے جی آئی ڈی سی فیس اکٹھا کی گئی تھی اور ساتھ ساتھ وضاحت طلب کی کہ اسے حکومتی کے اکاؤنٹ میں ‘ٹیکس ریونیو’ کے طور پر کیوں ظاہر کیا گیا اور کیا ان فنڈز کو ان کے اصل مقصد کے لیے کبھی استعمال بھی کیا گیا ہے یا نہیں

عدالت نے مایوسی کا اظہار کیا کیونکہ وزارت خزانہ کے نمائندے نے بھی عدالت کو بتایا کہ جی آئی ڈی سی کے معاملات دیکھنا ان کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں۔
سی این جی اسٹیشنز مالکان کی نمائندگی کرنے والے سینیئر وکیل مخدوم علی خان نے موقف اپنایا کہ ایران-پاکستان (آئی پی) پائپ لائن منصوبہ روک دیا گیا ہے اور ترکمانستان-افغانستان-افغانستان-بھارت پائپ لائن منصوبہ (تاپی) میں پاکستان کا حصہ صرف 31 ارب ڈالر ہے جبکہ ایل این جی منصوبوں کے لیے جی آئی ڈی سی کی ضرورت نہیں تاہم حکومت نے اب تک جی آئی ڈی سی کی مد میں 2 کھرب 95 ارب روپے جمع کرچکی ہے۔
تاپی اور آئی پی منصوبے کے پاکستان کی جانب سے انتظامات سنبھالنے کے ذمہ دار ادارے انٹر اسٹیٹ گیس کمپنی کے سی ای او مبین صولت نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے کافی کام کیا جاچکا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ تو لازم ہے کہ حکومت 2 کھرب 95 ارب روپے اکٹھا کرے اور کچھ نہ کرے، کوئی سروس اب تک فراہم نہیں کی گئی ہے۔
اگر کمپنی 10 سال تک جی آئی ڈی سی ادا کرنے کے بعد ختم ہونا چاہے تو انہیں کیا سروس ملی ہوں گی۔
انہوں نے سوال کیا کہ ‘جو کمپنی 10 سال بعد بنے گی اور انہوں نے کوئی جی آئی ڈی سی ادا نہیں کی ہوگی تاہم انہیں سہولت ملے گی، یہ صحیح ہے؟’۔
کیس پر جب سماعت کا آغاز ہوا تو حکومتی اداروں کو کئی بھی نمائندہ عدالت میں موجود نہیں تھا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا تھا ور عدالت کے اسٹاف کو پیغام پہنچانے کا حکم دیا تھا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کتنا کام کرلیا گیا ہے جس پر سی ای او نے جواب دیا کہ معاہدے کیے جاچکے ہیں، زمین حاصل کی جائے گی اور کام کا آغاز ہوگا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ صرف کاغذی کارروائی ہوئی ہے اور حقیقت میں کچھ بھی نہیں کیا گیا اب تک، سی ای او نے اعتراف کیا کہ یہ حقیقت ہے تاہم تاپی کے لیے زمین حاصل کرنے کے مرحلے کا آغاز ہوچکا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ کیا اس حوالے سے کوئی نوٹی فکیشن جاری کیا گیا جس کا جواب بھی نفی میں تھا۔
یہی سوال جب اکاؤنٹنٹ جنرل کے سامنے رکھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں کچھ معلوم نہیں وہ رقم صرف اس وقت جاری کرسکتے ہیں جب منصوبے کے لیے پی سی-1 تیار کرلیا جائے گا۔
اکاؤنٹنٹ جنرل کا کہنا تھا کہ انہیں اب تک منصوبے کے لیے پی سی-1 موصول نہیں ہوا ہے۔
جب جسٹس فیصل عرب نے سوال کیا کہ کیا ان کے پاس اکٹھا کیے گئے 2 کھرب 95 ارب روپے پر اختیار ہے تو انہوں نے جواب میں انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وزارت خزانہ کا کام ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ رقم کو ٹیکس ریونیو کے طور پر کیوں دکھایا گیا ہے جبکہ یہ فیس تھی۔
اکاؤنٹنٹ جنرل نے دوبارہ کہا کہ یہ کام وزارت خزانہ کی جانب سے کیا گیا اور ان کا اس پر کوئی اختیار نہیں۔
ڈپٹی سیکریٹری فنانس نے بھی بیان دیا کہ انہیں بھی نہیں معلوم کہ فنڈز کو نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن اور گیس اسٹوریج منصوبے کے لیے کیوں جاری نہیں کیا گیا کیونکہ یہ معاملہ ان کے پاس نہیں۔
جی آئی ڈی سی کا معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب حکومت نے متنازع آرڈیننس کے ذریعے فرٹیلائزر کی صنعت، آئی پی پیز، توانائی پیدا کرنے والی کمپنیوں، کے الیکٹرک اور سی این جی کے شعبے کے لیے 2 کھرب 10 ارب روپے کے گرانٹ کی پیشکش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

الخدمت فاؤنڈیشن کی طرف سے 1 ہزار دیہاڑی دار مزدوروں میں راشن تقسیم

الخدمت فاؤنڈیشن کی طرف سے 1 ہزار دیہاڑی دار مزدوروں میں راشن تقسیم

اسلام آباد: الخدمت فاؤنڈیشن کی طرف سے 1 ہزار دیہاڑی دار مزدوروں میں راشن تقسیم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے