چاقو سے مسلح افراد کے حملے میں پانچ ہلاک

چین کے مسلم اکثریتی خطے سنکیانگ میں چاقو سے مسلح حملہ آوروں نے پانچ افراد کو ہلاک اور پانچ کو زخمی کر دیا ہے۔

مقامی حکومت کے مطابق یہ واقعہ منگل کو پشان کاؤنٹی میں پیش آیا اور پولیس نے تینوں حملہ آوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

مقامی حکومت کی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے ایک بیان میں حملہ آوروں کو ‘بدمعاش’ قرار دیا گیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملے کے چند منٹ بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی اور اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

تاحال اس حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور نہ ہی کسی گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

چینی حکومت ماضی میں مسلم علیحدگی پسندوں کو ایسے حملوں کے لیے ذمہ دار ٹھہراتی رہی ہے۔

خیال رہے کہ چین کی اویغور اقلیتی برادری کی اکثریت سنکیانگ میں رہائش پذیر ہے اور خطے کی 45 فیصد آبادی ایغور مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

یہ خطہ گذشتہ کئی برس سے بےچینی اور بدامنی کا شکار رہا ہے۔

حقوقِ انسانی کے گروپوں کے مطابق یہاں تشدد کی وجہ حکومت کا اویغور آبادی پر ثقافت اور مذہب کے حوالے سے سخت کنٹرول ہے تاہم حکومت ان الزامات سے انکار کرتی ہے۔

واضح رہے کہ سنکیانگ کی سرحدیں پاکستان اور افغانستان کے علاوہ چار وسطی ایشیائی ممالک سے بھی ملتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

یورپی پارلیمنٹ کا بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ

یورپی پارلیمنٹ کا بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ

یورپی پارلیمنٹ میں 12 سال بعد مسئلہ کشمیر پر بحث کی گئی جس میں ارکان نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے