5 احتساب عدالتیں ایسی ہیں جس میں کوئی پریزائڈنگ جج تعینات نہیں

5 احتساب عدالتیں ایسی ہیں جس میں کوئی پریزائڈنگ جج تعینات نہیں

اسلام آباد:چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ’نہ تو نیب میں کام کرنے والے تفتیشی افسران بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے لیے تربیت یافتہ ہیں اور نہ ہی پراسیکیوٹرز احتساب عدالتوں میں مقدمات کی پیروی میں دلچسپی رکھتے ہیں‘

احستاب عدالتوں میں فیصلہ سازی میں تاخیر کے حوالے سے لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی جس میں چیف جسٹس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ زیر التوا کیسز کو نمٹانا نیب کی سب سے کم ترجیح ہے۔
اس سے قبل 8 جنوری کو ہونے والی سماعت میں جسٹس مشیر عالم نے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ ٹرائل کورٹس میں ملزم پر مقدمے کی کارروائی میں تاخیر پر ازخود نوٹس لے کر ایک خصوصی بینچ بنایا جائے۔
عدالت عظمیٰ نے نیب کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جس میں ٹرائلز میں تاخیر کی وجوہات پر روشنی ڈالی جائے، کتنی عدالتوں میں پریزائڈنگ ججز کی کمی ہے اور ان آسامیوں کو پر کیوں نہیں کیا گیا اس کی وجہ بیان کی جائے‘۔

یہ بھی پڑھیں

مندر کی تعمیر کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج

مندر کی تعمیر کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج

اسلام آباد: مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر اسلام آباد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے