حافظ سعید اور دیگر ملزمان کے خلاف کیسز اکٹھے سن کر فیصلہ کرنے کی درخواست منظور

حافظ سعید اور دیگر ملزمان کے خلاف کیسز اکٹھے سن کر فیصلہ کرنے کی درخواست منظور

لاہور: عدالت نے پہلے ہی دو کیسز میں فیصلے محفوظ کر رکھے ہیں اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق محفوظ فیصلے دیگر کیسز کے ساتھ رواں ہفتے کے آخر تک سنادیے جائیں گے

انسداد دہشت گردی عدالت نے دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق کیس کے فیصلے کا اعلان ملتوی کردیا تھا اور فیصلہ کیا تھا کہ 11 فروری کو وکیل دفاع کی تمام کیسز کی سماعت کے بعد فیصلہ سنانے کی درخواست پر موقف سننے کا فیصلہ کیا تھا۔
ستغاثہ نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ جن کیسز کی سماعت مکمل ہوچکی ہیں عدالت ان میں اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے تاہم عدالت نے فیصلہ ملتوی کرتے ہوئے درخواست پر دونوں فریقین کا موقف طلب کیا تھا۔
حافظ سعید دہشت گردوں کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ سمیت زمین کے قبضے کے تقریباً 29 کیسز میں ملزم ہیں۔
ان کے خلاف 2 کیسز میں 6 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔
دہشت گردوں کی مالی معاونت کا کیس لاہور اور گجرانوالہ کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔
گجرانوالہ کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے دائر کیے گئے کیس کی ابتدائی سماعت گجرانوالہ میں ہوئی تھی تاہم بعد ازاں اسے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر لاہور منتقل کردیا گیا تھا۔
دونوں کیسز کے ٹرائل کے دوران عدالت نے 23 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے۔
جماعت الدعوۃ کے سربراہ کو سی ٹی ڈی نے گزشتہ سال جنوری کے مہینے میں گرفتار کیا تھا جب وہ لاہور سے گجرانوالہ کا سفر کر رہے تھے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق جماعت الدعوۃ غیر سرکاری تنظیم اور الانفال ٹرسٹم دعوۃ الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ وغیرہ سے بڑے پیمانے پر اکٹھا کیے گئے فنڈز سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کر رہا تھا۔
یہ غیر سرکاری تنظیموں پر گزشتہ سال اپریل کے مہینے میں جماعت الدعوۃ اور اس کی اعلیٰ قیادت سے تعلقات ہونے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
جماعت الدعوۃ کے خلاف گزشتہ سال کریک ڈاؤن پیرس میں مقیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی پاکستان کو دہشت گردی کی مالی معانت اور منی لانڈرنگ روکنے کے وعدے کو پورا کرنے پر زور کے بعد سامنے آیا تھا۔
حکومت نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) پر بھارت کی تشویش دور کرنے کے لیے پابندی کا اعلان کر رکھا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ان کی اور 6 دیگر تنظیموں کی حمایت یا کم خطرہ سمجھتا ہے جن میں جیش محمد بھی شامل ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جیش محمد، جماعت الدعوۃ، ایف آئی ایف کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

شہباز شریف کو کرونا سے متاثر ہونے کی وجہ سے مزید تین ہفتے آرام کا مشورہ

شہباز شریف کو کرونا سے متاثر ہونے کی وجہ سے مزید تین ہفتے آرام کا مشورہ

لاہور: ایک طرف ڈاکٹرز نے شہباز شریف کو کرونا سے متاثر ہونے کی وجہ سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے