سرکاری جامعات کو درپیش مالی بحران پر سنگین تحفظات کا اظہار

سرکاری جامعات کو درپیش مالی بحران پر سنگین تحفظات کا اظہار

اسلام آباد: چیئرمین پی پی پی نے اعلیٰ تعلیمی بجٹ میں بڑی کمی کی ’مذمت‘ کی جس کے باعث سرکاری جامعات اپنے امور کی انجام دہی کے لیے بجی شعبے سے قرض لینے پر مجبور ہیں

104 جامعات اپنی تاریخ کے بدترین مالی بحران کا سامنا کررہی ہیں اور ’کٹھ پتلی حکومت‘ ایک کھرب 58 ارب روپے کے درکار بجٹ میں سے نصف بھی مختص کرنے کو تیار نہیں ہے۔
پشاور یونیورسٹی سمیت ملک کی چند نمایاں جامعات اپنے عملے کو تنخواہیں تک ادا نہیں کر پارہی جبکہ تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کو بری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے۔
بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’کٹھ پتلی حکومت نے اپنے سلیکٹرز کی ناک کے نیچے ملکی معیشت کو تباہ، لاکھوں افراد کو غربت کی لکیر سے بھی نیچے دھکیل دیا گیا، قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی آسمان کو چھو رہی، بے روزگاری بے قابو ہورہی ہے اور ملک کو معاشی، معاشرتی اور سیاسی دلدل میں گھسیٹا جارہا ہے‘۔
سرکاری جامعات کے افعال معمول کے مطابق چلانے کے لیے ان کو درکار فنڈز بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور طلبہ، اساتذہ اور جامعات کی عملے سے اس بحرانی کیفیت میں یکجہتی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں

31 مئی کو لاک ڈاؤن میں نرمی یا سختی کا فیصلہ کیا جائے گا

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس 31 مئی کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے